بغداد ۔ 21 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام) : عراق میں جنگجوؤں نے مغربی صوبہ انبار میں نمایاں پیشرفت کرتے ہوئے انتہائی اہمیت کے حامل دو ٹاونس پر قبضہ کرلیا ۔ جنگجوؤں کی بڑھتی پیشرفت اور شامی سرحد سے قریب ٹاون قائم کے علاوہ دریائے فرات کے کنارے واقع راوہ ٹاون پر قبضہ نے وزیراعظم نورالمالکی حکومت کو انتہائی بے بس کردیا ہے ۔ ایک طرف جنگجوؤں کی پیشرفت اور دوسری طرف مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام کے ہاتھوں میں اسلحہ سے یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ ملک میں یہ لڑائی مسلکی خطوط پر مزید وسعت اختیار کر جائے گی ۔ عراق کے کئی شہروں میں آج مخصوص طبقہ کے مسلح عوام کو سڑکوں پر گشت کرتے دیکھا گیا ۔ بغداد میں تقریبا 20 ہزار افراد نے اسالٹ رائفل ، مشین گنوں اور راکٹ لانچرز وغیرہ کے ساتھ صدر سٹی کی طرف مارچ کیا ۔ پولیس اور فوجی عہدیداروں نے بتایا کہ آئی ایس آئی ایل نے قائم ٹاون اور اس کی سرحد پر قبضہ کرلیا جو بغداد کے مغرب میں تقریبا 520 کیلو میٹر دور واقع ہے اس لڑائی میں 30 عراقی فوجی ہلاک ہوگئے ۔عراق میں جنگجوؤں کی لڑائی سرحد تک پہنچ گئی۔ شام سے متصل سرحد پر گھمسان کی لڑائی میں عراق کے 30 سے زائد سپاہی ہلاک ہوگئے۔
جنگجوؤں نے دن بھر کی محاذ آرائی کے بعد سرحد پر قبضہ کرلیا۔ قائم سرحد کراسنگ پر جنگجوؤں کا قبضہ وزیراعظم نوری المالکی حکومت کے لئے ایک اور بڑا دھکہ ہے۔ عراق کی حکومت ان انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی اور جدوجہد میں مسلسل پسپا ہورہی ہے۔ یہ جنگجو اپنے دیگر حلیف انتہا پسندگروپس کے ساتھ مل کر ملک کے بہت بڑے علاقہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ عراق کے سب سے بڑے دوسرے شہر موصل پر قبضہ کے بعد یہ گروپس بغداد کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ عراق کی اسلامی مملکت اور آئی ایس آئی ایل و حلیف انتہا پسندوں نے قائم کی سرحد کے قریب واقع کراسنگ پر قبضہ کرلیا۔ کل دن بھر عراقی فوج کے ساتھ جنگ کے بعد جنگجوؤں کو کامیابی ملی ہے۔ جنگجوؤں کا سرحد پر قبضہ ایک ایسے وقت ہوا جب نوری المالکی کی فورسیس اور حکومت پر شدید دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ جنگجوؤں کا خاتمہ کردیں یا پھر اقتدار چھوڑ دیا جائے۔
سال 2011ء کے اختتام پر ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے عراق میں ہونے والی بدامنی کے واقعات میں جاریہ حملے سب سے زیادہ خطرناک بدترین سمجھے جارہے ہیں۔ وائیٹ ہاؤز اور عراقی حکومت کی اعلیٰ قیادت کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔ عظیم رہنما آیت اللہ السیستانی نے کل ہی المالکی پر زور دیا تھا کہ وہ کردش انتہا پسندوں سے مذاکرات کریں۔ السیستانی نے کہا تھا کہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ایک ایسی موثر حکومت تشکیل دی جائے جس کو وسیع تر قومی حمایت حاصل ہو۔ ماضی کی غلطیوں سے گریز کرتے ہوئے تمام عراقیوں کے بہتر مستقبل کی جانب پیشرفت کی جائے۔ 2006ء میں ملک کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والی المالکی حکومت پر ان دِنوں شدید تنقیدیں ہورہی ہیں۔