بغداد 25 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عراق میں گذشتہ دو دن سے جاری شدید بارش اور بعد کے سیلاب کے نتیجہ میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور ہزارہا افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ وزارت صحت اور اقوام متحدہ نے آج یہ بات بتائی ۔ وزارت صحت کے ترجمان سیف البدر نے بتایا کہ مہلوکین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کی موت غرقاب ہونے کے نتیجہ میں ہوئی ہے جبکہ دوسرے کچھ لوگ کار حادثات میں ہلاک ہوئے ہیں یا پھر برقی شاک لگنے سے ان کی موت واقع ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ گھر منہدم ہونے کے نتیجہ میںبھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان تمام واقعات میں 180 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ عراق اور پڑوسی ممالک میں حالیہ ہفتوں میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی جا رہی ہے جس کے نتیجہ میں اموات ہوئی ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے ۔ ملک کے شمال میں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں اور اقوام متحدہ کے عراق دفتر نے بتایا کہ بارش کے نتیجہ میں ہزار ہا افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔صوبہ صلاح الدین میں ایک اندازہ کے مطابق 10 ہزار افراد اور نینوا میں 15,000 افراد بے گھر ہوئے ہیں انہیں مدد کی شدید ضرورت ہے ۔ ان میں کئی لوگ بے گھر ہونے کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں قیام پر مجبور ہوگئے ہیں۔ صلاح الدین صوبہ کے الشرقت ضلع میں ہزاروں مکانات زیر آب آگئے ہیں۔ موصل میں شدید بارش کے نتیجہ میںدو برج زیر آب آگئے ہیں جو دریائے تگریس پر بنائے گئے تھے ۔ وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے جمعہ کو ہی ایک ہنگامی سیل قائم کرنے کا اعلان کردیا تھا اور سکیوریٹی فورسیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کو امدادی سرگرمیوں کیلئے متحرک کردیا گیا تھا ۔