عراق میں سینکڑوں افراد ہلاکت کااقوام متحدہ کا ادعا

اقوام متحدہ ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق سنی انتہا پسندوں کی طرف سے عراقی شہر موصل پر قبضے کے دوران جو ہلاکتیں ہوئیں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ اس ادارے کے ترجمان روپرٹ کول وِلے کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس دوران 17 ایسے سویلین افراد کو بھی قتل کیا گیا ہے جو موصل کی پولیس اور عدالت کے اہلکار تھے۔ ان رپورٹوں کے مطابق چار ایسی خواتین نے خودکشی کر لی جنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کول وِلے کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی خبریں بھی ہیں کہ حکومتی فورسز نے چھ اور آٹھ جون کو سویلین علاقوں میں شیلنگ کی، جن میں 30 کے قریب عام شہری ہلاک ہوئے۔ جہادیوں کی شمالی عراق میں برق رفتار پیشرفت سے تیل کی منڈیوں میں فکرمندی پیدا ہوئی ہے۔

آئی ای اے نے آج خبردار کیا کہ عراق سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فکرمندی کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ عراق سے تیل کی سربراہی کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اپنی ماہانہ تیل منڈی رپورٹ میں بین الاقوامی توانائی ادارہ پیرس نے کہا کہ عراق کے تازہ ترین واقعات ممکن ہیکہ فی الحال تشویشناک ہوں لیکن یہ لڑائی مزید نہیں پھیلے گی اور فوری طور پر عراق سے تیل کی سربراہی کو کوئی خطرہ نہیں پیدا ہوگا۔ ادارہ نے نشاندہی کی کہ عراق کی نسبتاً کم پیداوار کی وجہ سے گذشتہ مارچ سے بین الاقوامی تیل منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ خانہ جنگی سے اس نے مزید شدت پیدا ہوگئی۔ تاہم بین الاقوامی ادارہ نے نشاندہی کی کہ تیل کی برآمدات میں کوئی مزید کمی واقع نہیں ہوگی۔