عراق سے 46 نرسیں بحفاظت ہندوستان واپس

کوچی 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام)عراق میں آئی ایس آئی ایس باغیوں کی حراست میں رہنے والی 46 ہندوستانی نرسیں آج ایر انڈیا کے خصوصی طیارہ کے ذریعہ بحفاظت واپس پہنچی۔ ایر پورٹ پر ارکان خاندان اور عزیز و اقارب سے ملاقات کے جذباتی مناظر دیکھے گئے اور اس کے ساتھ ہی ایک ماہ سے جاری تعطل اختتام کو پہنچا۔ اس خصوصی طیارہ میں نرسوں کے علاوہ 117 دیگر مسافرین سوار تھے جو 11.57 بجے کوچی انٹر نیشنل ایر پورٹ پہنچا۔ چیف منسٹر کیرالہ اومین چانڈی نے مرکزی حکومت کے ساتھ باہمی ربط برقرار رکھتے ہوئے ریاست کی ان نرسوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیاتھا۔ نرسوں کے ارکان خاندان نے ایر پورٹ پر ان کے پہنچتے ہی راحت کی سانس لی ۔ وہ کثیر تعداد میں ایر پورٹ پر جمع تھے اس کے علاوہ بی جے پی اور کانگریس کے سیاسی قائدین بھی یہاں پہنچ گئے تھے۔یہ نرسیں صدام حسین کے آبائی ٹاون تکریت میں ایک ہاسپٹل میں ملازمت کرتی تھی لیکن حالیہ تشدد اور بد امنی کی وجہ سے انہیں ہاسپٹل کے اندر ہی پناہ لینی پڑی۔ہندوستانی حکام ان کی بحفاظت رہائی یقینی بنانے کیلئے مسلسل سرگرم رہے ۔ وزارت امور خارجہ کی زیر قیادت کوششوں کے بعد اغواء کنندوں نے انہیں رہا کردیا اور کل بسوں میں اربیل انٹرنیشنل ایر پورٹ پہنچایا ۔ وہاں سے خصوصی طیارہ کے ذریعہ وہ آج صبح ممبئی پہنچی جہاں مختصر توقف اور ری فیولنگ کے بعد یہ طیارہ کوچی کیلئے روانہ ہوگیا۔

اس میں 137 مسافرین سوار تھے جن میں 70 کرکک (عراق)سے یہاں آئے ۔ چیف منسٹر کیرالہ اومین چانڈی نے نرسوں کی بحفاظت واپسی پر مرکز، وزیر امور خارجہ سشما سواراج اور عراق میں ہندوستانی سفارتخانے سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے ہماری پریشانی کو سمجھتے ہوئے موثر انداز میں کارروائی کی ۔ حکومت کیرالہ نے ان نرسیس کی اپنے گھر واپسی کیلئے بھی موثر انتظامات کئے تھے ۔
اب ہم عراق نہیں جائیں گے
٭٭ ایک ماہ تک غیر یقینی کیفیت سے دوچار رہنے کے بعد نرسوں نے آج کہا کہ وہ ثپھر کبھی عراق نہیں جائیں گے ۔ سینڈرا سبسٹین نے کہا کہ اب دوبارہ واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ہم اپنی زندگی کو پھر ایک بار خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے ۔ سینڈرا کا تعلق ضلع کوٹیم سے ہے وہ گذشتہ سال 16 اگست کو عراق گئی تھی۔اس نے بتایا کہ چار ماہ سے وہ اور دیگر نرسیس تنخواہوں سے محروم ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس باغیوں کی تحویل میں رکھے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر سینڈرا کے علاوہ ایک اور نرس نینو جوز نے بتایا کہ انہیں بہت پہلے منتقل کیا جانے والا تھا لیکن انہوں نے انکار کردیا کیونکہ ہندوستانی سفارتخانے سے اس کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔انہیں پابندی سے غذا دی جارہی تھی۔