عراق سے تلنگانہ کے 80 افراد کی واپسی

مزید افراد جنگ زدہ ملک میں ہنوز پھنسے ہوئے ہیں ، ساتھیوں کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جولائی : ( پی ٹی آئی ) : عراق میں گذشتہ چند دن سے پھنسے ہوئے 80 ہندوستانی جن میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے ۔ ایرانڈیا کے ایک خصوصی طیارہ سے آج دوپہر حیدرآباد واپس ہوئے ۔ ایرانڈیا کے عہدیداروں کے مطابق حیدرآباد پہونچنے والے 80 مسافرین میں چار کا تعلق چینائی سے ہے ۔ ضلع کریم نگر سے تعلق رکھنے والے ایریلی انجیا نے جو عراق میں گذشتہ چار ماہ سے ایک سافٹ ڈرنکس ( مشروبات ) کمپنی میں کام کررہا تھا کہا کہ ’ اگر حکومت بروقت مداخلت نہ کرتی تو ہم اپنے وطن واپس نہیں ہوسکتے تھے ۔ ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ ہم زندہ ہیں ‘ ۔ انجیا نے کہا کہ اس نے ایک ایجنٹ کو 1.5 لاکھ روپئے ادا کیا تھا جس نے عراق سافٹ ڈرنکس فیکٹری میں ماہانہ 35000 روپئے تنخواہ پر ملازمت دلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن گذشتہ دو ماہ سے تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی تھی ۔ انجیا نے کہا کہ جنگ زدہ ملک سے وہ خالی ہاتھ لوٹا ہے ۔ انجیا نے کہا کہ اُس کے ساتھ تلنگانہ کے دیگر 73 افراد بھی حیدرآباد پہونچے ہیں جو وہی سافٹ ڈرنکس فیکٹری میں کام کیا کرتے تھے ۔ ایک دوسرے مسافر نے کہا کہ دیگر 40 تا 50 افراد جن میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے ہنوز وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور وطن واپسی کے لیے مدد کے منتظر ہیں ۔ ضلع عادل آباد کے اپو پرساد نے گڑبڑ زدہ ملک میں اپنی پریشانیاں بیان کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں جنگ جیسی صورتحال ہے ۔ ہم اپنی کمپنی کے احاطہ کے باہر بندوق چلنے کی آوازیں سن رہے تھے ۔ گذشتہ کئی دن سے ہمیں کھانے بھی نہیں ملا تھا ۔ کوئی باورچی بھی نہیں تھا ۔ ان تکالیف سے گذرنے کے بعد ہم عراق میں مزید نہیں رہ سکتے تھے ۔ جو کچھ ہوا وہ بہت ہو چکا تھا ۔ اپوپرساد نے کہا کہ عراق جانے کے لیے اس نے بھاری شرح سود پر قرض لیا تھا اور اب نہیں جانتا کہ قرض کس طرح ادا کیا جائے ۔ اس نے کہا کہ ’ میں چاہتا ہوں کہ حکومت مدد کرے ‘ ۔ اپو نے کہا کہ ’ متعلقہ گاؤں کو واپسی کے لیے ریاستی تلنگانہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات کو اس کو کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ ہم اکثر کا تعلق تلنگانہ سے ہے ۔ کسی نے بھی ہمیں اپنے مقام تک پہونچنے کے لیے کوئی مدد یا سہولت نہیں پہنچائی ہے ‘ ۔۔