واشنگٹن۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے عراق کی صورتِ حال کے پیش نظر خلیج فارس میں اپنے جنگی بحری بیڑے کو اُتار دیا ہے۔ اس فوجی تیاری کا مطلب عراق کے شورش پسندوں کے خلاف عراق کی لڑائی میں ضروری تعاون کیلئے قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ڈیفنس سیکریٹری چیک ہیگل نے یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش کو حکم دیا کہ وہ شمالی بحیرۂ عرب میں اپنے بیڑے اُتار دے۔ صدر امریکہ براک اوباما نے عراق کے لئے فوجی کارروائی کے امکان کو کھلا رکھا ہے۔ چیک ہیگل کے پریس سیکریٹری ریئر ایڈم جان کیربے نے کہا کہ عراق میں امریکی شہریوں اور مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے اگر فوجی کارروائی کی ضرورت پڑے تو حکم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈیفنس سیکریٹری جان کیری نے عراق کے اپنے ہم منصب ہوشیار زبیری سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور عراق کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔ عراق کی القاعدہ سے وابستہ تنظیم آئی ایس آئی ایس کی سرگرمیوں اور اس کی پیشرفت کو روکنے کیلئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ عراقی سکیورٹی فورسیس کی مدد کرنے کے لئے صدر امریکہ براک اوباما نے تمام حالات کا جائزہ لیا ہے۔ کیری نے کہا کہ اگر عراقی قائدین اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر شورش پسندوں کی پیشرفت کو روکنے کی کوشش کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔ کل ہی صدر براک اوباما نے کہا کہ امریکہ نے آئی ایس آئی ایس کی پیشرفت کے خلاف کارروائی کرنے ہمہ رخی اختیارات پر غور کیا ہے۔
اس دوران وائیٹ ہاؤز ڈپٹی پریس سیکریٹری جوش ایرنسٹ نے کہا کہ کل رات اوباما نے قومی سلامتی مشیر سوسان رائس سے بات چیت کرتے ہوئے عراق کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس دوران ایران نے عراق میں کسی بھی قسم کی بیرونی فوجی مداخلت کے خلاف انتباہ دیا ہے کیونکہ اس سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوگی۔ خلیج فارس میں امریکی جہاز کی تعیناتی کے بعد ایران نے کہا کہ عراق میں بیرونی مداخلت برداشت نہیں جائے گی۔ ایران کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عراق کے اندر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ضروری ہوا تو عراق ان شورش پسندوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔ عراق میں پائی جانے والی موجودہ صورتِ حال میں کوئی بیرونی کارروائی سے کیفیت مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔ یہ ملک اور خط کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ عراق کے عوام اور حکومت اس سازش کو ناکام بنانے کے اہل ہیں۔ عراق بحران کے حوالے سے کل پینٹگان نے کہا تھا کہ امریکہ نے اپنے جنگی طیارہ کو سرگرم کرنے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناء وسطِ عراق میں آج مارٹر داغے گئے جس میں 6 پولیس ملازمین ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبہ ویالہ کے شمال میں اس حملے میں 3 سپاہی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
انتہا پسندوں کی کارروائی کے درمیان وزیراعظم نوری المالکی نے اعلان کیا کہ عراقی حکومت انتہا پسندوں کو شکست دینے کیلئے اپنے شہریوں اور والینٹرس کو مسلح کرے گی۔ اس سلسلے میں ہزاروں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر دستخط کئے ہیں۔ عراق نے انتہا پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کی ساری تیاری کرلی ہے۔ اس دوران وسطی بغداد میں آج ایک کار بم دھماکہ ہوا جس میں 10 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے ۔ پولیس اور ہاسپٹل کے عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ بغداد میں گزشتہ چند ماہ کے دوران خودکش اور کار بم دھماکوں کے واقعات میں کافی اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہ شہر فی الحال دہشت گردوں کے قبضہ میں جانے کا امکان نظر نہیں آتا لیکن یہاں غذائی اجناس کی قیمتیں کافی بڑھ گیئں ہیں ۔ ٹرانسپورٹ سسٹم مفلوج ہوکر رہ گیا ۔ حکومت نے بغداد کے اطراف دفاعی چوکسی بڑھادی ہے اور ہزاروں عام افراد نے بھی اپنے ملک کے دفاع کیلئے ہتھیار اٹھالئے ہیں اور وہ سڑکوں پر گشت کررہے ہیں ۔