عراقی جہادیوں سے لڑنے کرد فوج کو جرمن اور برطانوی ہتھیار

برلن ۔ 15 اگست (سیاست ڈاٹ کام) شمالی عراق میں دولت اسلامیہ دہشت گردی کے سبب فرار ہونے والے ہزاروں یزیدیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کیلئے جرمنی کی جانب سے ذریعہ طیارہ غذائی و دیگر امداد روانہ کی جارہی ہے۔ اس دوران یہ اشارے بھی ملنے لگے ہیں کہ عراق میں جہادیوں کے خلاف لڑنے والے کرد فوج کو جرمن اور برطانوی اسلحہ بھی فراہم کئے جائیں گے۔ جرمنی کے پہلے4 ٹرانسال ٹرانسپورٹ طیارے 36 ٹن غذا، ادویات، بلانکٹس اور دیگر انسانی امداد کے ساتھ آج اربیل روانہ ہوئے۔ جرمن وزارت دفاع نے کہا کہ اربیل میں یہ امداد شمالی عراق کے کرد علاقہ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں میں تقسیم کیلئے اقوام متحدہ کی تنظیموں کے حوالے کی جائے گی۔ جرمنی نے قبل ازیں معلنہ 4.4 ملین کے علاوہ انسانی امداد کے طور پر گذشتہ روز مزید 20 ملین یورو جاری کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ جہادیوں کے تشدد سے گھر چھوڑ کر نقل مکان کرنے والے مصیبت زدہ عوام کو اقوام متحدہ کے توسط سے امداد فراہم کی جاسکی۔

جہادیوں کے تشدد سے تاحال 50 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں جنہیں کرد علاقہ میں تاحال کوئی پناہ نہیں مل سکی ہے۔ اس دوران جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے عراقی اور کرد فورسیس کو اسلحہ فراہم کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہیکہ ان کی حکومت اس امکان پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ چانسلر مرکل نے کہا کہ ’’شمالی عراق میں اقلیتوں، یزیدیوں، کرسچنوں اور دوسروں پر دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کے عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم انتہائی دلخراش اور تکلیف دہ ہیں۔ چنانچہ اس انتہا پسند گروپ کی پیشرفت کو روکنا اور ان کی دہشت گردی سے متاثرین کو بچانے میں مدد کرنا ساری بین الاقوامی کی ذمہ داری ہے‘‘۔ جرمن وزیرخارجہ فرینک والٹر اسٹن میئر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وزیرخارجہ برطانیہ فلپس ہیمنڈ نے بھی کہا کہ حکومت برطانیہ بھی کردوں کو ہتھیار فراہم کرنے پر غور کررہی ہے۔ وہ یوروپی یونین کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کے موقع پر علحدہ طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔