40 کیسیس عدالت سے رجوع ، مقبرہ فخر الملک کی اراضی کے معاوضہ میں حق کا 14 اشخاص کا ادعا
زیادہ تر تنازعات ارکان خاندان میں ، مالکین اور کرایہ داروں کے درمیان ، معاوضہ میں حصہ سے متعلق ہیں
حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( ایجنسیز ) : نئے حصول اراضی قانون کے باوجود ، جو یکم جنوری 2014 کو نافذ العمل ہوا جس میں کہا گیا کہ زمین کی قیمت کے علاوہ 100 فیصد زیادہ ادا کیا جائے اور انکم ٹیکس کی کسی منہائی کے بغیر ، حصول اراضی سیل کی جانب سے 40کیسیس کو عدالت سے رجوع کیا گیا ۔ زیادہ تر کیسیس میں ارکان خاندان میں معاوضہ میں حصہ اور مالکین اور کرایہ داروں کے درمیان تنازعات پیدا ہورہے ہیں ۔ وہ تمام کیسیس جو ٹائٹل ڈیڈ سے متعلق عدالتوں سے رجوع کئے گئے ۔ دو پارٹیاں زمین کی ملکیت کا دعویٰ پیش کرتی ہیں اور کرایہ داروں کی صورت میں وہ معاوضہ میں بڑے حصہ کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ یہ کیس ہمیشہ وقت لیتا ہے کیوں کہ انہیں ٹینینسی ایکٹ کو ثابت کرنا ہوتا ہے ۔ کے شنکرا چاری ، اسپیشل ڈپٹی کلکٹر (حصول اراضی ) نے کہا کہ سکندرآباد میں سینٹ تھامس ( ایس پی جی ) ٹامل کیتھیڈرل پر جائیداد کے حق کا دو گروپس دعویٰ کررہے ہیں ۔ اس کیس کو عدالت سے رجوع کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل 2007 مربع گز زمین پہلے ہی حاصل کرچکا ہے ۔ حیدرآباد میٹرو ریل ( ایچ ایم آر ) کے ایک سینئیر عہدیدار نے کہا کہ ایس پی جی چرچ کے کیس میں عدالت میں جس قدر طویل وقت ہوگا اتنی ہی تاخیر ہوگی تاہم ایچ ایم آر کی جانب سے کام کے سلسلے میں پیشقدمی کی جارہی ہے ۔ ریجمنٹل بازار کے ساکن سولومن نے کہا ’ دو اسوسی ایشنس اس جائیداد کے حق کا دعویٰ کررہی ہیں اور یہ صرف معاوضہ پیاکیج میں حصہ دار بننے کے لیے ہے ‘ ۔ اس طرح کے ایک کیس میں ایس آر نگر میں واقع مقبرہ نواب فخر الملک پر حاصل کی گئی 915 مربع گز اراضی کے لیے الاٹ کی گئی معاوضہ رقم 5.49 کروڑ روپئے میں حصہ ہونے کا ادعا پیش کرتے ہوئے 14 اشخاص نے مقدمات دائر کئے ہیں ۔ نواب فخر الملک کے پرپوتے ہونے کا دعویٰ کرنے والے مسٹر سرفراز حسین نے کہا کہ مقبرہ سے متصل کئی ملگیات تعمیر کی گئی ہیں تاکہ اس سے حاصل ہونے والے کرایہ کو زائد از 100 سالہ قدیم اسٹرکچر کی دیکھ بھال وغیرہ کے لیے استعمال کیا جائے لیکن کرایہ دار اب عدالت سے رجوع ہوئے ہیں اور معاوضہ میں بڑا حصہ چاہتے ہیں ۔ شنکراچاری نے کہا کہ کاریڈر Iمیں محصلہ 80 جائیدادوںکے منجملہ 29 کو سٹی سیول کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے ۔ لیکن حاصل کی گئی تمام جائیدادوں کو رجوع نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے اپنے کیس کو ثابت کرنے کے لیے کہا کہ کاریڈر III میں حاصل کی گئی 39 جائیدادوں کو عدالت سے رجوع نہیں کیا گیا ۔ لینڈ اکویزیشن سیل کے ایک سینئیر عہدیدار نے کہا کہ کئی مرتبہ ہم نے پارٹیز کو صلاح و مشورہ دیا کہ وہ ایک اتفاق کے لیے آگے آئیں ورنہ کیس عدالت سے رجوع کردیا جائے گا اور اس میں کافی وقت درکار ہوگا ۔ صرف چند ہی لوگوں نے اس سے اتفاق کیا ۔ حتی کہ انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانشیس نیس (ISKCON) سکندرآباد کے کیس میں بھی مینجمنٹ نے ایچ ایم آر کے عہدیداروں کی جانب سے ISKCON کے نمائندوں کو یہ باور کروانے پر ہی کہ مندر کے اسیٹس متاثر نہیں ہوں گے اس سے اتفاق کیا ۔ ابتداء میں ایچ ایم آر 1,333 مربع گز چاہتا تھا لیکن بعد میں 612.77 مربع گز کے لیے راضی ہوا ۔۔