عثمانیہ یونیورسٹی میں کے سی آر کا علامتی پتلہ نذر آتش ، ریالی نکالنے کی کوشش

کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے تشکیل کمیٹی کے خلاف احتجاج
حیدرآباد۔/14اگسٹ، ( سیاست نیوز) کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے سے متعلق تلنگانہ حکومت کے فیصلہ کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی میں طلباء نے آج پھر احتجاج کیا اور بڑی ریالی منظم کرنے کی کوشش کی۔ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے طریقہ کار کو طئے کرنے کیلئے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی میں طلباء پھر ایک بار احتجاج کے راستہ پر چل پڑے ہیں۔ طلباء نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا علامتی پتلہ نذرآتش کیا اور الزام عائد کیا کہ طلباء کی قربانیوں کے سبب تلنگانہ کے حصول کے باوجود چندر شیکھر راؤ طلباء کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔ طلباء قائدین نے کہا کہ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے سے متعلق فیصلہ کے اعلان کے ساتھ ہی طلباء تنظیموں نے احتجاج کا آغاز کردیا تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے فیصلہ پر عمل آوری کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے جس سے حکومت کی مخالف طلباء پالیسی کا اظہار ہوتا ہے۔ بڑے پیمانہ پر موجود احتجاجی طلباء نے آرٹس کالج سے ریالی کا آغاز کیا جو تارناکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پولیس نے عثمانیہ یونیورسٹی کے حدود کی ناکہ بندی کرتے ہوئے ریالی کو روک دیا جس پر پولیس اور طلباء کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔ ایک مرحلہ پر دونوں میں ٹکراؤ کی نوبت آگئی تاہم سینئر پولیس عہدیداروں نے مداخلت کرتے ہوئے احتجاجی طلباء کو پیچھے کردیا۔ طلباء نے مطالبہ کیا کہ حکومت کنٹراکٹ ملازمین سے متعلق فیصلہ سے فوری دستبرداری اختیار کرے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت اپنے فیصلہ پر قائم رہے گی تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔