عثمانیہ یونیورسٹی میں موسیقی کے جشن

دیسی سازوں کے ذریعہ لوک فنکاروں کا مظاہرہ
حیدرآباد20مارچ (یواین آئی )شہر حیدرآباد کی مشہور عثمانیہ یونیورسٹی میں موسیقی کے جشن کا اہتمام کیاگیا۔اس جشن کی خاص بات یہ رہی ہے کہ تقریبا 150فنکاروں نے مختلف دیسی ساز ایک ہی تال میں بجایا ۔پہلی مرتبہ 52دیسی سازوں کو ایک ہی اسٹیج پر لایاگیا۔اس مظاہرہ کودلچسپی سے پُر کردیاگیا۔اس پروگرام کا اہتمام تلنگانہ رُچیتالا ودیدیکانامی تنظیم کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی کے تعاون سے کیاگیا۔اس طرح عثمانیہ یونیورسٹی کا کیمپس تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کے قبائلی اورلوک فنکاروں کا مرکز بن گیا۔ان فنکاروں نے اپنے دیسی سازوں کے ساتھ مظاہرہ کے ذریعہ تمام کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی۔یہ دیسی ساز معدوم ہوتے جارہے ہیں۔یونیورسٹی میں ایسے 52سازوں کو پہلی مرتبہ ایک ہی اسٹیج پر لایاگیا اور اس کے ذریعہ تاریخ رقم کی گئی۔اس کنسرٹ کا مقصد بیشتر لوک موسیقی کے طورطریقوں سے واقف کروانا، ان کا احیا اور اس موسیقی کی وراثت کا تحفظ تھا۔موسیقی کے آلات جیسے کڑی تنتری،بُراوینا،آدی واسی کنرواکو یہاں اس کنسرٹ میں بجایاگیا۔اس دو روزہ پروگرام کے دوران گونڈ ،گوراوایالو ، سدی،نایکا پوڈو،کویا،گُٹی کویاکے فنکاروں نے مظاہرہ کیا۔ان سازوں پر ریسرچ اور ان کو بجانے والوں کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ ہے ۔اس پروگرام کاتصور حیدرآباد کے مورخ جئے دھیر تروملا راو نے پیش کیا جنہوں نے قبائلیوں کی سماجی تاریخ اور لوک موسیقی کے آلات پر تحقیقی کام کیا ہے ۔