حیدرآباد۔/18جولائی، ( پی ٹی آئی)شہر کی عثمانیہ یونیورسٹی اپنی صد سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پوسٹ گریجویٹ امتحانی جوابی پرچوں کی آن لائن جانچ شروع کررہی ہے اور اس طرح روایتی انداز میں افرادکے ہاتھوں کی جانے والی جانچ کے قدیم طریقہ کار کو خیرباد کہہ دیا جائے گا۔ عثمانیہ یونیورسٹی انتظامیہ اس نظریہ کی حامل ہے کہ آن لائن جانچ سے یونیورسٹی کو کسی نقص کے بغیر نتائج کا جلد اعلان کرنے میں مدد ملے گی اور بدعنوانیوں کا انسداد ہوگا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ایس رامچندرم نے ایک اعلامیہ میں کہا کہ ’’ نئے طریقہ کار سے یونیورسٹی کو روایتی جانچ کے طریقہ کار کے برخلاف معلومات کے جلد حصول میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ دیگر کئی فوائد بھی ہیں۔‘‘ اس یونیورسٹی نے جوابی بیاضات کی بار کوڈنگ اور اسکیاننگ کے لئے بیرونی اداروں سے اشتراک کی ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے ایم بی اے دوسری میقات کے امتحانات سے آن لائن جانچ کا طریقہ کار شروع کیا جارہا ہے۔ کوڈ اور اسکیان کردہ جوابی بیاضات آن لائن پر پیش کئے جائیں گے اور یونیورسٹی دائرہ کار کے تحت جانچ کے مقررہ مراکز کو انٹرنیٹ پر آن لائن بیاضات تک رسائی حاصل رہے گی۔ قبل ازیںچند ماہر پیشہ ور اساتذہ جوابی بیاضات کی جانچ کیا کرتے تھے جس کے لئے کافی وقت درکار ہوا کرتا تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات پروفیسر کمار ایم نے کہا کہ ’’ عثمانیہ یونیورسٹی، آن لائن جانچ متعارف کرنے والی اس ریاست کی پہلی یونیورسٹی ہے‘‘ ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خصوصی آئی ڈی، پاس ورڈ اور ایک او پی ٹی کے ذریعہ جانچ کنندگان 32 صفحات پر مشتمل جوابی بیاض حاصل کرسکتے ہیں ۔ جانچ کے بعد نشانات دے سکتے ہیں۔جانچ کنندگان کو مختلف مراحل میں روزانہ بنیاد پر تقریباً 30 تا60 جوابی بیاضات دیئے جائیں گے۔