چندر شیکھر راؤ کے سخت موقف پر تنقید ، طلباء جے اے سی کو مزید نشستیں الاٹ کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔/13مارچ، ( سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی طلباء جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک قائد کو ٹی آر ایس کی جانب سے اسمبلی ٹکٹ کے اعلان کے ساتھ ہی طلباء جے اے سی میں بغاوت ہوچکی ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آج طلباء جے اے سی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چندر شیکھر راؤ کے موقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے انتخابات میں 20% نشستیں طلباء جے اے سی قائدین کو الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ طلباء نے واضح کیا کہ بعض قائدین کو ٹکٹ دیئے جانے سے تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لینے والے لاکھوں طلباء کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ چندر شیکھر راؤ نے کل عثمانیہ یونیورسٹی طلباء جے اے سی کے قائد پی روی کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے انتخابات میں ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی طلباء جے اے سی دو حصوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ پسماندہ اور کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء نے کے سی آر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ تلنگانہ میں اعلیٰ طبقات کے تسلط کی کوشش کررہے ہیں۔
اجلاس میں طلباء نے کہا کہ گذشتہ 50برسوں کے دوران ریاست میں اعلیٰ طبقات کا تسلط رہا لیکن تلنگانہ میں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں شریک جے اے سی قائدین نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ جدوجہد میں اہم رول ادا کرنے والے تمام قائدین کو ٹی آر ایس اپنے ٹکٹ کا اعلان کرے۔ بصورت دیگر طلباء ٹی آر ایس امیدواروں کے خلاف مہم چلائیں گے۔ اجلاس میں کے سی آر کے ان دعوؤں پر برہمی کا اظہار کیا گیا کہ ان کی جدوجہد کے باعث تلنگانہ کا حصول ممکن ہوسکاہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک میں طلباء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ چندرشیکھر راؤ کیلئے دن بہ دن دردِ سر بنتا جارہا ہے۔ ایک طرف انہیں تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی کے قائدین کو پارٹی ٹکٹ دینا ہے تو دوسری طرف جے اے سی میں شامل سی پی آئی، نیو ڈیموکریسی پارٹیوں سے مفاہمت کی بات چیت جاری ہے۔ تلگودیشم اور کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین بھی پارٹی ٹکٹ کے لالچ میں ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ کے سی آر کو انہیں بھی ٹکٹ دینا پڑے گا۔ بیشتر قائدین ٹکٹ دیئے جانے کے وعدے پر ہی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ٹی آر ایس میں فی الوقت ارکان اسمبلی کی تعداد 35تک پہنچ چکی ہے اور ایک، ایک حلقہ سے کئی سینئر قائدین بھی اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے 119 اسمبلی حلقوں میں طلباء جے اے سی، پولٹیکل جے اے سی اور حلیف جماعتوں کیلئے ٹکٹ کی فراہمی کے سی آر کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی طلباء جے اے سی کی ناراضگی سے نمٹنے کیلئے کے سی آر نے اپنی طلباء تنظیم کے قائدین کو متحرک کیا ہے جو عثمانیہ یونیورسٹی طلباء سے ربط میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء قائدین کا اصرار ہے کہ تحریک کے دوران کے سی آر نے شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان اور عثمانیہ یونیورسٹی طلباء قائدین کو پارٹی ٹکٹ دینے کا جو اعلان کیا تھا اس پر عمل کیا جانا چاہیئے۔