حیدرآباد /13 مارچ ( سیاست نیوز ) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں آوارہ کتوں کی بہتات اور مریضوں پر کتوں کے حملوں کے واقعات کا انسانی حقوق کمیشن نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں کتوں کی کثرت اور مریضوں کے بستر کے قریب اور وارڈز میں کتوں کی نقل و حرکت کی منہ بولتی تصاویر پر کمیشن نے اپنی برہمی ظاہر کی ہے اور پرنسپل سکریٹری میڈیکل اینڈ ہیلت تلنگانہ بلدیہ کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو ہدایت دی کہ وہ 26 مارچ اس رپورٹ کا جواب دیں ۔ قائد مجلس بچاؤ تحریک و سابقہ کارپوریٹر اعظم پورہ ڈیویژن مسٹر امجد اللہ خان خالد نے ایک رپورٹ تیار کرتے ہوئے مسلہ کو انسانی حقوق کمیشن سے رجوع کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 26 مارچ سے قبل کمیشن نے متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل جو قومی سطح پر بڑے ہاسپٹل میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اس ہاسپٹل میں لاپرواہی کی کوئی انتہاء نہیں رہی ۔ باہر سپرنٹنڈنٹ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل اور بلدی کمشنر سے شکایت کے باوجود صفائی اور کتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل لاپرواہی کے سبب ہومن اور وٹرنری ہاسپٹل میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ جہاں آوارہ کتے بے خوف مریضوں کے بستروں تک پہونچ جاتے ہیں اور ان کی اشیاء کو تک استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک واقعات ایسے بھی گذرے ہیں جس میں آوارہ کتوں نے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں پر حملہ کیا اور انہیں زخمی بھی کردیا ۔ ایک طرف مہلک مرض سوائن فلو شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے تو دوسری طرف عدم صفائی سے ہاسپٹل کا برا حال ہے اور اس حالت زار پر ہاسپٹل کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ قائد ایم بی ٹی نے بارہا توجہ دہانی کے بعد ایک مکمل رپورٹ تیار کرتے ہوئے مسئلہ کو کمیشن سے رجوع کردیا ۔ جہاں کمشنر نے امجد اللہ خان کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے نہ صرف تعجب کا اظہار کیا بلکہ سرکاری محکموں پر اپنی برہمی ظاہر کی اور فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے پرنسپل سکریٹری میڈیکل اینڈ ہیلت کمشنر بلدیہ اور سپرنٹنڈنٹ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے رپورٹ طلب کی ہے ۔