حیدرآباد۔24مارچ(سیاست نیوز) مقرر سزا ء کی تکمیل کے باوجود ریاست کی مختلف جیلوں میں محروس سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کو تلنگانہ کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انقلابی مصنف ورا ورا رائو نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے فوری بعد 3جون کو ریاستی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے پہلے جی او کے ذریعہ سابق کانسٹبل عبدالقدیر اور گنیش کی رہائی کو یقینی بنایا جائے۔ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے قیدی کو ملک کی مختلف جیلوں میں محروس قیدیوںکے لواحقین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر ورا ورارائو نے کہاکہ ہندوستا ن کی مختلف جیلوں میںمحروس ریاست کے بے شمار قیدی اپنے مقرر سزاء پوری ایمانداری کے ساتھ تکمیل کرچکے ہیں باوجوداسکے ان کی رہائی میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مائوسٹ اور دھشت گردی کے فرضی مقدمات میں گرفتار کئے گئے بیشمار محروسین جیلوں میں نفسیاتی امراض کا شکار ہورہے ہیں ۔ انہوں نے جمہوری نظام کے استحصال کا ریاستی اور قومی انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ضمانت حاصل کرنے پر بارہ گھنٹوں کے اندر دوسرے مقدمہ میں پھنساتے ہوئے مذکورہ قیدیوں کی رہائی میں رخنہ پیدا کیا جارہا ہے ۔
انہوں کہاکہ ساحلی آندھرا‘ رائلسیما‘ تلنگانہ کے بشمول چھتیس گڑھ‘ جھارکھنڈ‘ بہار ‘ اتر پردیش میں ریاست کے کئے ایسے قیدی ہیں جن کی سزاء مکمل ہوجانے کے باوجود ان کی رہائی یا پھر ضمانت میں سازش کے تحت رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ورا ورارائو نے کہاکہ سی آر پی پی‘ اور پی ڈی ایم کا ایک وفد ریاست کے اِن تمام قیدیوں کی تفصیلات کے ساتھ سوائے بی جے پی کے ریاست کی تمام قومی اور علاقائی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس ‘ سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے سربراہان سے آج ملاقات کی جائے گی۔ انہوںنے تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر پی لکشمیا سے وفد کے ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ پی سی سی صدر نے سی آر پی پی اور پی ڈی ایم کے تمام مطالبات کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ انہوں نے صدر تلنگانہ پی سی سی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اب دیکھنا ہے تلنگانہ پی سی سی اپنے وعدے پر کتنا عمل کرتا ہے۔بی راگھو ویندرا‘پی ڈ ی ایم راجو کے علاوہ سزاء کی تکمیل کے بعد جیلوں میں محروس قیدیوں کے لواحقین نے بھی میڈیا سے بات کی۔