کانگریس کی امیدوں میں پانی پھیر گیا۔ منچریال ایم ایل اے کی ٹی آر ایس میں شمولیت پر صدر ٹی آر ایس کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے کانگریس پارٹی کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات میں انتخابی مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ لوک سبھا اور اسمبلی میں تمام نشستوں پر تنہا مقابلہ کیا جائے گا۔ ٹی آرایس کے سربراہ چندر شیکھر راؤ نے منچریال کے سابق رکن اسمبلی دیواکر راؤ کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ واضح رہے کہ کانگریس پارٹی جو ٹی آر ایس کے انضمام کی امید کررہی تھی، آخر میں اس نے کم از کم انتخابی مفاہمت کے بارے میں امیدیں وابستہ کی تھی لیکن چندر شیکھر راؤ کے اس اعلان نے کانگریس کیلئے تمام دروازوں کو بند کردیا ہے۔ کے سی آر نے سخت گیر لہجہ میں کہا کہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ انضمام کے مسئلہ پر مجھ پر کانگریس کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کررہے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ میں نے آخر کیا دھوکہ دہی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے تلنگانہ مسئلہ پر اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے انضمام کے امکانات کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جس وقت انہوں نے انضمام کی پیشکش کی تھی اس وقت کانگریس پارٹی نے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں نہیں لائی تھی۔ اس کے برخلاف طویل جدوجہد اور سینکڑوں نوجوانوں کی قربانیوں کے بعد تلنگانہ ریاست تشکیل دی گئی۔ لہذا اب وہ پیشکش ازخود ختم ہوچکی ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی سے انہوں نے کہا تھا کہ وہ سینکڑوں نوجوانوں کی خودکشی کو روکنے کیلئے تلنگانہ کی تشکیل کا فوری فیصلہ کرے لیکن کانگریس ہائی کمان نے ایسا نہیں کیا۔ کے سی آر نے کہا کہ اب تلنگانہ کے عوام انضمام کے سخت خلاف ہیں لہذا ہم عوام کی خواہش کے مطابق ہی آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جن نوجوانوں نے تلنگانہ کیلئے خودکشی کی اُن میں سے بیشتر نے خودکشی کیلئے کانگریس پارٹی کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ کے سی آر نے کہاکہ اب کانگریس پارٹی یہ کہتے ہوئے ڈرامہ بازی کررہی ہے کہ وہ شہیدان تلنگانہ کے ارکان خاندان کو انتخابات میں ٹکٹ دے گی۔
کانگریس سے انتخابی مفاہمت کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ کل سے دیکھیں گے کہ کیا ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہوں گے یا پھر صورتحال اس سے مختلف ہوگی۔انہوں نے وضاحت کی کہ کانگریس پارٹی سینکڑوں نوجوانوں کی خودکشی کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس نے مکمل تلنگانہ دینے کے بجائے شرائط کے ساتھ تلنگانہ دیا ہے۔ مکمل تلنگانہ کے حصول کیلئے ہمیں ابھی بھی جدوجہد کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے تئیں ان کی بھاری ذمہ داری ہے اور یہی وجہ ہے کہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل کیلئے انضمام کے برخلاف فیصلہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران سینکڑوں نوجوانوں اور قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے لیکن کانگریس قائدین نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پنالہ لکشمیا کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ لکشمیا نے آج پارٹی صدر کی ذمہ داری سنبھالی لیکن انہوں نے تلنگانہ نوجوانوں کی قربانیوں کو نظرانداز کردیا۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کانگریس پارٹی نے تلنگانہ کی تشکیل میں حصہ داری ادا کی ہے لہذا وہ پارٹی کا احترام کرتے ہوئے خاموش ہیں۔