حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : پرانے شہر کی سڑکوں پر آپ نے اچانک ایمبولنس کے سائرن کی آواز سنی ہوگی جو تیز رفتاری کے ساتھ مریضوں کو لے کر انہیں ان کے مقام تک پہنچاتے نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح کے 108 ایمبولنس چلاتے ہوئے پرانے شہر کی سڑکوں پر ایک شخص نظر آئے گا جن کا نام محمد منظور صدیقی ہے ۔ منظور ایس ایس سی کامیاب ہیں ۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم ہے اور یہ محلہ جہاں نما میں رہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 108 میں ملازمت سے پہلے وہ اے وی سوریہ نارائن راجو رکن مقننہ تلگو دیشم کے ڈرائیور تھے ۔ وہاں 9 سال خدمات انجام دی اور اس کے بعد 108 ایمبولنس سرویس سے وابستہ ہوگئے جس کا آغاز ستیم کمپیوٹرس کی جانب سے 15 اگست 2005 میں ہوا تھا ۔ محمد منظور کے مطابق اس کے آغاز سے صرف 3 یوم بعد اس سے منسلک ہوئے اور اب تک بے شمار لوگوں کو بروقت دواخانہ پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ۔ محمد منظور نے بتایا کہ قریبی اضلاع ، مواضعات اور مضافات سے آنے والی حاملہ خواتین کو زچگی کے بعد انہیں ان کے مقام تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر غریب خواتین ہی اس سرکاری دواخانہ کا رخ کرتی ہیں جن کی خدمات انجام دینے میں انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ واضح رہے کہ 108 نامی ایمبولنس کسی بھی مریض یا سڑک حادثے کے زخمی یا پھر کسی طرح سے متاثر افراد کو طبی امداد پہنچانے کے لیے بلا معاوضہ خدمات انجام دیتی ہے ۔
اسکیم کو سرکاری امداد بھی حاصل ہے۔ اس ایمبولنس میں ایک پائلٹ اور ایک مددگار ہوتا ہے ۔ جنہیں فرسٹ ایڈ کی مکمل تربیت دی جاتی ہے اور ان کو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار کیا جاتا ہے ۔ کسی کو بھی طبی مدد کی ضرورت ہو تو 108 نمبر پر فون کیجئے یہ ایمبولنس کسی بھی دواخانے تک بلا معاوضہ پہنچا دے گی ۔ یہی نہیں بلکہ ابتدائی طبی امداد بھی ایمبولنس میں فراہم کی جاتی ہے ۔ محمد منظور نے بتایا کہ مجھے یہ خدمت 12 گھنٹے انجام دینی پڑتی ہے ۔ لیکن یہاں کی خدمات ایسی ہیں وقت ہو بھی جائے تو دل جانے کے لیے نہیں کرتا ۔ انہوں نے بتایا کہ 18 مئی 2007 کو مکہ مسجد بم دھماکہ ہوا ۔ میں چھٹی لینے کے لیے آیا تھا ہماری ایمبولنس چارمینار پر تھی اچانک دھماکے کی آواز آئی میں نے سب سے پہلے تمام ایمبولنس کو مطلع کیا ۔ میری ایمبولنس میں نیا پائلٹ تھا جس کو صرف دو دن ہوئے تھے وہ گھبرا گیا میں اسے بازوبٹھا کر مکہ مسجد پہنچا لیکن لوگوں نے مجھے اتنا مارا کہ میری حالت خراب ہوگئی مگر مجھے تو اپنی خدمت انجام دینا تھا میں نے اسریٰ دواخانے کے چار ٹرپ کئے چار لاشوں کو میں اپنے ہاتھ سے اٹھایا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ فون ریسو کرنے کے 10 تا 15 منٹ کے اندر مریض تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ مریض کو بروقت طبی امداد مل سکے ۔ محمد منظور نے مزید کہا کہ مریض کو دواخانہ تک پہنچانا تو ان کی ڈیوٹی ہے لیکن ان کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ مریض کی تیمار داری اس وقت تک کرتے ہیں جب تک وہ صحت یاب نہیں ہوجاتا ۔ ستیم کمپیوٹر کے مالک اور چیرمین رام لنگا راجو نے مکہ مسجد بم دھماکے میں خدمات انجام دینے پر محمد منظور کو ایوارڈ سے نوازا ۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر پولیس نے بھی انہیں ایوارڈ سے نوازا ۔ منظور نے بتایا کہ سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور اس وقت کے ضلع کلکٹر کے ہاتھوں بھی انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا ۔۔