نئی دہلی ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال نے بی جے پی پر آج شدید حملہ کرتے ہوئے اسے ان پر کیچڑ اچھالنے کا موردالزام ٹھہرایا تاکہ اپنی یقینی شکست سے توجہ ہٹائی جاسکے، اور کہا کہ دہلی کے عوام اس پارٹی کو منفی انتخابی مہم چلانے کی سزاء دیں گے۔ نہایت گرماگرم مہم کے دوسرے آخری روز کجریوال نے متعدد ریالیوں سے خطاب کیا جہاں انہوں نے بی جے پی پر شدید تنقید کی کہ اس نے اس چناؤ کیلئے تعمیری اور مثبت مہم سے دوری رکھی۔ کجریوال نے کہا کہ ’’اگر میرے حریف میرے تعلق سے مسلسل جھوٹی باتیں کہتے رہیں تو میں ان کے تعلق سے سچ کہتا رہوں گا‘‘۔ اس دوران عام آدمی پارٹی کو بائیں بازو کی جماعتوں کی تائید بھی حاصل ہوگئی جنہوں نے دہلی میں بی جے پی اور کانگریس کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش میں اعلان کیا کہ وہ عام آدمی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ ان نشستوں پر کجریوال زیرقیادت پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالیں جہاں سے بائیں بازو کی پارٹیوں کے مشترکہ محاذ نے اسمبلی چناؤ میں کوئی امیدوار نہیں ٹھہرائے ہیں۔ سی پی آئی (ایم) جنرل سکریٹری پرکاش کرت نے یہاں میڈیا والوں کو بتایا کہ لیفٹ پارٹیاں دہلی چناؤ میں مشترکہ طور پر 15 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ بقیہ 55 نشستوں پر ہماری پارٹی نے یہ فیصلہ کیا ہیکہ ہمارے پارٹی ارکان اور ووٹروں سے عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی جائے۔
زیادہ تر دیگر بائیں بازو جماعتوں کی اکثریت بھی یہی رائے رکھتی ہے۔ دریں اثناء عام آدمی پارٹی نے اپنے داخلی سروے کے مطابق پیش قیاسی کی کہ اسے 51 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہوجائے گی جس کے بعد بی جے پی کو 15 اور کانگریس و دیگر کو محض 4 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ پارٹی لیڈر یوگیندر یادو نے پارٹی سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شہر میں 53 فیصد ووٹروں نے اپنے چیف منسٹر کے طور پر کجریوال کو ترجیح دی ہے جبکہ 34 فیصد چاہتے ہیں کہ بی جے پی کی کرن بیدی اگلی حکومت کی قیادت کریں۔ اب تک کہ مختلف سروے کے برخلاف آج ایک پول نے بی جے پی کو برتری دیتے ہوئے پیش قیاسی کی کہ 70 رکنی اسمبلی نے یہ پارٹی ہوسکتا ہے اکثریت کے نشان تک پہنچ جائے۔ انڈیا ٹی وی ۔ سی ۔ ووٹر سروے نے جہاں بی جے پی کو 37 نشستیں دی ہیں، وہیں اس نے عام آدمی پارٹی کیلئے 28 اور کانگریس کیلئے اس چناؤ میں صرف 5 نشستوں کی پیش قیاسی کی ہے۔