نئی دہلی ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی انتخابات سے عین قبل شاہی امام جامع مسجد دہلی سید احمد بخاری نے مسلم رائے دہندوں سے اپیل کی کہ عام آدمی پارٹی کی تائید میں ووٹ دیں اور کہا کہ مسلم فرقہ کو فرقہ پرست طاقتوں سے ’’سنگین خطرہ‘‘ لاحق ہے لیکن عام آدمی پارٹی نے ان کی تائید یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ پارٹی کسی بھی قسم کی ذات پات اور فرقہ پرست سیاست کے خلاف ہے۔ اپنی اپیل میں بخاری نے عوام پر زور دیا کہ عام آدمی پارٹی کو دہلی میں ایک سیکولر حکومت قائم کرنے میں مدد دیں۔ بی جے پی کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے کئی قائدین نے الزام عائد کیا کہ بعض طاقتیں انتخابات سے پہلے عوام کی صف بندی کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ حریف پارٹی اس پیشکش کے پس پردہ ہوسکتی ہے۔ عام آدمی پارٹی قائد اشیش کھیتان نے کہا کہ ایک شخص جو ترقی پسند سیاست کی نمائندگی کرتا ہے، سیاست کا فرقہ پرست پہلو سامنے آتا ہے اور پارٹی کو تائید کی پیشکش کرتا ہے، جو عام آدمی کیلئے انتخابات میں مقابلہ کررہی ہے اور اس نے سیاست میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا ہے۔ یہ انتخابات کو صف بندی کی نظر کرنے کی واضح کوشش ہے۔ تائید طلب کرنے پر عام آدمی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی نے الزام عائد کیا پارٹی فرقہ پرست سیاست پر عمل پیرا ہے اور بی جے پی دہلی انتخابات سے پہلے ووٹوں کی صف بندی کی کسی بھی کوشش کو بے نقاب کرنے کی پابند ہے۔ مرکزی وزیر نرملا سیتارامن نے کہا کہ عام آدمی پارٹی بے نقاب ہوگئی ہے۔
وہ مکمل طور پر دہل کر رہ گئے ہیں اسی لئے فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی صف بندی کی کوشش کررہے ہیں۔ جامع مسجد متحدہ فورم کے صدر سید احمد بخاری اور امام کے چھوٹے بھائی نے اس فیصلہ پر اعتراض کیا اور اظہارحیرت کیا کہ وقفہ وقفہ سے مختلف پارٹیوں کو تائید کی پیشکش کیوں کی جاتی ہے۔ یحییٰ نے کہا کہ ان کے خیال میں دہلی کے رائے دہندوں کو شاہی امام سے سوال کرنا چاہئے کہ وہ وقفہ وقفہ سے مختلف سیاسی پارٹیوں کی تائید کیوں کررہے ہیں۔ اس کے پس پردہ کیا وجہ ہے۔ شاہی امام نے آج جو کچھ کہا وہ پہلے ہی کہہ سکتے تھے۔ عام آدمی پارٹی نے احمد بخاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد مشاورتی کونسل کے معتمد عمومی طارق بخاری نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ کافی تبادلہ خیال اور ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا عام آدمی پارٹی کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بے شک جب تک ہمیں یقین نہ ہوجاتا ہم ان کی تائید کیسے کرسکتے تھے۔ شاہی امام نے اپنی محفل میں کہا کہ ہندوستان نے سیکولرازم پر بقاء کا انحصار مسلمانوںکا انحصار ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا تھا کہ دہلی میں دیانتدار اور سیکولر حکومت قائم کرنے عام آدمی پارٹی کی تائید کریں۔ پارٹی قائد سنجے سنگھ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی امام بخاری کے نظریہ کی تائید نہیں کرتی۔ ہمیں ان کی تائید کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک اور پارٹی قائد اشوتوش نے کہا کہ پارٹی کا بخاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعظم ہند کو اپنے بیٹے کی دستاربندی کی تقریب میں مدعو نہیں کیا تھا بلکہ وزیراعظم پاکستان کو مدعو کیا تھا۔ عام آدمی پارٹی فرقہ پرست سیاست کی مخالف ہے۔ ایسی تائید اور ایسی سیاست دونوں کو مسترد کرتی ہے۔ بخاری نے گذشتہ سال اکٹوبر میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور سوائے وزیراعظم ہندوستان کے باقی سیاسی قائدین کو اپنے فرزند کی دستاربندی تقریب میں مدعو کرتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا۔