عالمی طاقتیں آیت اللہ کو جیتنے نہ دیں: نتن یاہو

تل ابیب ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے امریکی وزیر دفاع کو باور کرایا ہے کہ عالمی طاقتوں کو ایک سخت ترین معاہدے کے ذریعے ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنا ہوگا۔وزیر دفاع چک ہیگل کے مشرق وسطی کے دورے کے موقع پر ان سے ملاقات سے پہلے نتن یاہو نے کہا ’’ میں نہیں سمجھتا کہ جب عالمی طاقتیں ایرانی جوہری تنازعہ پر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں تو، عالمی طاقتوں کو یہ کہنے کے علاوہ کچھ کہنے کی ضرورت ہے کہ آیت اللہ کو جیتنے نہ دیا جائے‘‘۔اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا’’ ہمیں اپنے دور کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست کو اجازت نہیں دینا ہو گی کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لے‘‘۔ اس موقع پر امریکی وزیر دفاع نے امریکی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ’’ امریکہ کا ہدف بھی یہی ہے‘‘۔ چک ہیگل نے نتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ وزیر اعظم میں آپ کو اور اسرائیلی عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں امریکہ اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا، اس مقصد کیلئے امریکہ کو جو بھی کرنا پڑا کرے گا‘‘۔

وزیر دفاع کے دورہ اسرائیل کا مقصد اپنے اتحادی کی عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے تشویش دور کرنا ہے۔واضح رہے اسرائیل پہلے دن سے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری ایشو پر مذاکرات کا مخالف ہے۔ اس بارے میں نتن یاہو یہ بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف تنہا بھی آخری حدتک جانا پڑا تو بھی اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات پر پیشگی حملے سے گریز نہیں کرے گا۔ایک روز قبل اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون سے چک ہیگل کی ملاقات ہوئی تو اس موقع پر بھی چک ہیگل نے کہا ’’ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں کے مذاکرات لا محدود نہیں ہیں، اس سلسلے میں 20 جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے تاکہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے‘‘۔ امریکی ذمہ دار نے کہا ’’اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون ہر صورت جاری رہے گا اور ان مذاکرات کی وجہ سے اس تعاون میں کمی نہیں آئیگی‘‘۔