اخبارات اور صحافیوں کو سماجی خدمات بھی انجام دینے کا مشورہ، تلنگانہ اُردو جرنلسٹس اسوسی ایشن کے مشاورتی اجلاس سے جناب زاہدعلی خان کا خطاب
حیدرآباد 8 مارچ (دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے اُردو اخبارات و صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ سماجی خدمات بھی انجام دیں۔ چنانچہ اخبار سیاست نے اُردو صحافت کے فروغ کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات کو اپنا مشن بنایا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کوئی اخبار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اور نہ کوئی صحافی کی اہمیت چھوٹے اخبار کے باعث کم ہوتی ہے، اس طرح کے رجحان کو ختم کیا جانا چاہئے۔ جناب زاہد علی خان کل شام محبوب حسین جگر ہال، احاطہ روزنامہ سیاست (عابڈس) میں تلنگانہ اسٹیٹ اُردو جرنلسٹس اسوسی ایشن کے زیراہتمام منعقدہ مشاورتی جلسہ سے صدارتی تقریر کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ سیاست نے دنیا بھر میں ایک معیاری اور باوقار اخبار کی حیثیت سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اپنے 65 سالہ دور میں سیاست ایک دن بھی ناغہ نہیں رہا۔ اُنھوں نے کہاکہ ظہیرالدین علی خان اور عامر علی خان اِن کے دست و بازو ہیں جن کی شبانہ روز کوششوں کے ذریعے سیاست کو ایک مستحکم انتظامیہ اور عوامی اخبار کے بنانے میں مدد مل سکی ہے۔ چنانچہ بنگلور اور قطر سے جاری ہونے کے بعد امریکہ میں مقیم اُردو والوں کا مسلسل اصرار ہے کہ سیاست کو امریکہ سے بھی جاری کیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ تلگودیشم پارٹی میں پولیٹ بیورو کے رکن کی حیثیت سے پالیسی سازی اور دیگر اُمور میں حصہ لیتے رہے لیکن جب پارٹی نے بی جے پی سے مفاہمت کا فیصلہ کیا تو اُنھوں نے تلگودیشم سے اپنا تعلق ختم کرلیا کیونکہ وہ کبھی بھی فرقہ پرستی سے سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ اُس کے بعد اُنھوں نے عملی سیاست سے بھی سبکدوشی اختیار کرلی اور خود کو ملت اسلامیہ کے لئے وقف کردیا۔ اُنھوں نے جذباتی انداز میں کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملی خدمات کے ذریعہ ہی اپنی دنیا اور آخرت سنواریں۔ چنانچہ سیاست کی جانب سے طلباء کو 70 لاکھ روپئے مالیت کے اسکالرشپس تقسیم کئے گئے۔ ڈھائی ہزار سے زائد مسلم لاوارث نعشوں کی تدفین کا انتظام کیا گیا۔ دوبدو ملاقات پروگرامس کے ذریعہ سماجی اصلاح کا بیڑہ اُٹھایا گیا۔ مسلمانوں کی تعلیم، روزگار، صحت اور اُن کی ترقی کے لئے کئی اقدامات سیاست کی جانب سے کئے جارہے ہیں۔ جناب زاہد علی خان نے اُمید ظاہر کی کہ حکومت تلنگانہ اُردو اخبارات کے ساتھ انصاف کرے گی۔ اشتہارات ہوں کہ اُن کے دیگر مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ صحافتی مسائل کی یکسوئی کے لئے ہماری صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر جناب ظہیرالدین علی خان کو حکومت تلنگانہ کی جانب سے ایکریڈیشن و ہیلتھ کارڈ کمیٹی کے رکن منتخب ہونے پر تہنیت پیش کی گئی۔ جناب ظہیرالدین علی خان نے کہاکہ ان کا سب سے پہلا کام اُردو صحافیوں کو ہیلت کارڈس کی اجرائی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دیگر زبانوں کے صحافیوں کی طرح اُردو صحافیوں کو تمام سہولیات حاصل ہونی چاہئے۔ اُنھوں نے اُردو صحافتی تنظیموں کے وفاق کی ضرورت ظاہر کی۔ اُنھوں نے کہاکہ علحدہ تلنگانہ جدوجہد میں اُردو صحافیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اُن کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ انھیں قوی اُمید ہے کہ اُردو اخبارات کے مطالبات کی یکسوئی ہوگی اور ہماری نمائندگیوں کے ثمرآور نتائج برآمد ہوں گے۔ ابتداء میں جناب عابد صدیقی سابق نیوز ایڈیٹر دوردرشن نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ ظہیرالدین علی خان ایک باعمل اور دیانتدار شخصیت ہیں جو اُردو صحافیوں سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ظہیرالدین علی خان نے اُردو صحافیوں کی تمام تنظیموں کے کانفیڈریشن کی تشکیل پر زور دیا تاکہ مسائل و مطالبات کو متحدہ طور پر پیش کیا جاسکے۔ نواب کاظم علی خان صدر ساؤتھ انڈیا جرنلسٹ اسوسی ایشن نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اُنھوں نے اس موقع پر اعلان کیاکہ درگاہ جہانگیر پیراںؒ کے قریب واقع اراضی پر رعایتی قیمت پر صحافیوں کو اپنے مکانات تعمیر کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک پرنٹنگ پریس کا آغاز کررہے ہیں جہاں اُردو جرائد و اخبارات کو شائع کرنے کی سہولت دی جائے گی۔ اس کے لئے اُنھوں نے جناب زاہد علی خان سے خواہش کی کہ وہ پرنٹنگ پریس کا افتتاح کریں۔ مسرس ہادی رحیل، چکرادھر، خیرات علی، محمد اسماعیل، حسن عسکر اور دوسروں نے اُردو صحافیوں کے مطالبات پر مشتمل یادداشت ظہیرالدین علی خان کو پیش کی اور اُردو اخبارات کے مسائل پر اظہار خیال بھی کیا۔ احمد صدیقی مکیش آرگنائزر نے شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب میں اقبال احمد انصاری، ایم اے قدیر، محمد نصیرالدین قادری، چکراپانی، محمد نصراللہ خان، محبوب حسین آزاد، اسلم خان، محمد سلیم، محمد سمیع الدین، عرشیہ عامرہ کے علاوہ اُردو روزناموں، ہفتہ وار اخبارات کے ایڈیٹرس اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔