نئی دہلی ۔10اگست(سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی کے اس ریمارک پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہ یوپی اے حکومت نے عالمی تجارتی تنظیم میں غذائی سلامتی کے مسئلہ پر سمجھوتہ کرلیا تھا۔ کانگریس نے آج کہا کہ وہ اس مسئلہ کو کل پارلیمنٹ میں اٹھائے گی کیونکہ مودی کا یہ بیان ’’ غیردرست‘‘ ہے ۔ سابق وزیر کامرس آنند شرما نے کہا کہ مودی کا بیان کہ انہوں نے کسانوں کے مفاد میں غذائی سلامتی کیلئے اپنا موقف مضبوط بتایا ہے اور یو پی اے حکومت نے جو موقف اختیار کیا تھا اس کی مخالفت میں وہ قدم اٹھائیں گے گمراہ کن ہے ۔ مودی نے یہ بیان دے کر عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیراعظم کا ریمارک کہ ہندوستان نے کسانوں کے مفاد میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور بالی میں غذائی سلامتی کے حق کو نظرانداز کردیا گیا ‘ دراصل غیر درست اور دروغ گوئی پر مبنی ہے ۔ آنند شرما نے پارلیمنٹ میں 5اور 6اگست کو موجودہ مملکتی وزیر کامرس و صنعت کی جانب سے دیئے گئے بیان کو متضاد قرار دیا ۔ آنند شرما جو راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر ہیں کا کہنا ہے کہ جب پارلیمنٹ کے دونوں سیشن کی کارروائی جاری ہے تو ارکان کے مراعات کا سوال پیدا ہوتا اور ارکان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ’’ سچ ‘‘ ہے
یا مملکتی وزیر کامرس کہہ رہے ہیں یہ سچ ہے ۔ کانگریس اس مسئلہ کو کل بروز پیر پارلیمنٹ میں اٹھائے گی ۔ سابق وزیر کامرس مودی کے ان ریمارکس پر ردعمل ظاہر کررہے تھے جو انہوں نے کل بی جے پی کی قومی کونسل کے اجلاس میں کیا تھا کہ جو لوگ غذائی سلامتی کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں ۔ انہوں نے ہی عوام کے مفادات کو قربان کرکے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت نے حالیہ عالمی تجارتی تنظیم کے مذاکرات میں سخت موقف اختیار کرنے کو ’’پسند‘‘ کیا ہے تاکہ ملک کے غریب عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے ۔ حکومت نے انٹرنیشنل میڈیا میں اچھی تشہیر پانے کی کوشش کرنے کے بجائے عوام کے مفادات کے تحفظ پر توجہ دی ہے ۔ آنند شرما نے گذشتہ سال بالی میں غذائی سلامتی معاہدہ پر دستخط کئے تھے جس میں دیگر باتوں کے علاوہ 31جولائی 2014ء تک ٹی ایف اے پر دستخط کرنے سے بھی اتفاق کیا گیا تھا ۔ آنند شرما نے مزید کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ وزیراعظم عوام کو الجھن سے دوچار کررہے ہیں ۔
غذائی سلامتی کے مقتدر اعلیٰ حقوق کے مسئلہ پر مودی کا بیان گمراہ کن ہے ۔ اس دوران انشورنس شعبہ میں بیرونی راست سرمایہ کاری کی حد میں اضافہ کرنے حکومت کے اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے آج تمام اپوزیشن پارٹیوں سے کہا کہ وہ ایف ڈی آئی پالیسی کی مخالفت میں متحد ہوجائیں۔ سی پی آئی ایم کی سنٹرل کمیٹی نے اپنی تین روزہ میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی کی ڈھائی ماہ کی حکومت نے توثیق کی ہے کہ وہ یو پی اے حکومت کی طرح اس نیو لبرل پالیسیوں پر عمل نہیں کرے گی لیکن وہ اس پر مزید شدت سے عمل کرے گی ۔ اپوزیشن پارٹیوں سے تعاون کی خواہش کرتے ہوئے سی پی آئی ایم نے کہا کہ انشورنس شعبہ میں موجودہ ایف ڈی آئی کی حد 26فیصد‘ 49فیصد کردینے کی شدت سے مخالفت کرے گی اور اس کو بدلنے کیلئے جدوجہد کی جائے گی ۔سی پی آئی ایم نے کہا کہ مودی حکومت ایف ڈی آئی کے ذریعہ من مانی کررہی ہے ۔ پارلیمنٹ میں متحدہ جدوجہد کی جائے گی ۔