عازمین حج کو رباط میں قیام کی سہولت فراہم کرنے چیف منسٹر تلنگانہ سنجیدہ

سنگاپور سے واپسی کے بعد کے سی آر کا دورہ سعودی عرب، حج تربیتی کیمپ سے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد 24 اگسٹ (راست) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے عازمین حج کو ان کے مقدس سفر حج کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تلنگانہ خصوصاً چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ عازمین حج کو سہولتوں کی فراہمی اور ان کے آرام و آسائش کے تعلق سے کافی دلچسپی ہے۔ ریاست کے عازمین حج کے لئے مکہ مکرمہ میں رباط کی سہولت کی عدم فراہمی پر چیف منسٹر کو گہری تشویش ہے اور انھیں افسوس ہے کہ اس سال ریاست تلنگانہ کے حجاج کرام کو رباط میں قیام کی سہولت حاصل نہیں ہورہی ہے۔ اس لئے اُنھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سنگاپور کے دورہ سے واپسی کے بعد مملکت سعودی عرب کا خصوصی دورہ کریں گے تاکہ وہاں سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کے علاوہ دیگر حکام سے ملاقات کرکے اس مسئلہ کی مستقل یکسوئی کی کوشش کریں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ مکرمہ مکرمہ میں آٹھ دس رباط تھے لیکن اب صرف ایک ہی رباط باقی رہ گیا ہے اور وہاں اس سال بھی حجاج کرام کو سہولت نہیں مل سکی جو افسوسناک بات ہے۔ اگر آٹھ دس رباط واپس مل جائیں تو حجاج کرام کو چالیس ہزار روپئے تک کی بچت ہوسکتی ہے۔ آج جامع مسجد اعظم پورہ میں تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیراہتمام نویں مرکزی تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی۔ اس اجتماع کا اہتمام جمعیۃ المشائخ کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔ جناب محمود علی نے کہاکہ حکومت حج کیمپ سے عازمین حج کی روانگی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ عازمین کی دعاؤں کے طلبگار ہیں اور قوم کے خدمت گزار کی حیثیت سے یہاں آئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حج کا موقع جن خوش نصیب افراد کو حاصل ہوا ہے وہ اللہ کے مہمان ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مہمانوں کی حاجتوں اور تمناؤں کی تکمیل کرتا ہے اسی لئے حجاج کرام وہاں جب اپنے لئے دعا کریں تو ساتھ ہی قوم و ملت کی خوشحالی اور عالمی امن و سکون کے لئے بھی دعا کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس مسجد میں مسلسل 19 سال سے بپابندی یہ اہم اجتماع منعقد کرنے پر مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی صدر کل ہند جمعیۃ المشائخ، مولانا فیض احمد عبدالباری، مولاا سید شاہ احمد نوراللہ حسنی حسینی، مولانا سید ابوالفتح بندگی بادشاہ قادری المعروف ریاض احمد، مولانا سید شاہ مصطفی علی صوفی سعید پاشاہ اور دیگر عہدیداروں اور ارکان کو مبارکباد بھی دی۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے ان کو سفر حج میں آسانی کے مختلف مفید مشورے دیئے اور کہاکہ سعودی قانون کے مطابق عازمین کی ٹیکہ اندازی لازمی ہے جس کا آئندہ ہفتہ آغاز ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ حج کیمپ میں ان کو 2100 ریال کی سعودی کرنسی دی جائے گی اس سے زیادہ رقم وہ لے جانا چاہیں تو حج کمیٹی کے مسلمہ بینک سے حاصل کرسکتے ہیں۔ جس کا کاؤنٹر حج کیمپ میں قائم کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ عازمین اگر چاہیں تو اپنے ساتھ دس ہزار روپئے سے بڑھ کر رقم نہ لے جائیں۔ واپسی میں بھی ایرپورٹ پر بینک کا کاؤنٹر رہے گا جہاں حجاج کرام اپنی رقم تبدیل کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حج کیمپ 12 ستمبر سے شروع ہورہا ہے اور پہلی فلائٹ 14 سپٹمبر کو روانہ ہوگی۔ عازمین 48 گھنٹے پہلے رپورٹ کردیں اور حیدرآباد کے عازمین مقررہ دن کم از کم دس گھنٹے قبل حج ہاؤز پہونچ جائیں۔ اجتماع کا آغاز قاری مسعود پاشاہ قادری کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر عمر فاروق صوفیانی اور دیگر حضرات نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا سید ابوالفتح بندگی بادشاہ قادری المعروف ریاض احمد نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اس اجتماع کو منفرد و مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں عازمین کو عمرہ و حج اور زیارت مدینہ منورہ کے تمام اُمور، مناسک، شرائط اور آداب سے واقف کروایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ مدینہ منورہ پہونچنے پر سب سے پہلے اپنی رہائش گاہ کا کارڈ حاصل کرلیں۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی صدر کل ہند جمعیۃ المشائخ نے ماڈل اور چارٹس کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں حیدرآباد سے روانگی سے لے کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی تمام سرگرمیوں کا احاطہ کیا اور تفصیل کے ساتھ مناسک و ارکان عمرہ و حج بیان کئے اور کہاکہ مناسک سے واقفیت اور خشوع و خضوع سے ان کی ادائیگی ضروری ہے۔ دوران حج فسق و فجور سے محفوظ رہیں۔ احرام کے دوران مرد و عورت پر سات پابندیاں مشترک ہیں جبکہ مرد حضرات کے لئے تین پابندیاں زائد ہیں۔ ایکزیکٹیو آفیسر حج کمیٹی جناب عبدالحمید، کارپوریٹر جناب امجد اللہ خان خالد، اے ای او جناب عرفان شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مولانا سید شاہ مصطفی علی صوفی سعید پاشاہ نے آداب زیارت روضہ نبوی ﷺ پر روشنی ڈالی اور کہاکہ روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر حاضری اور مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ جانا چاہئے۔