دوسری قسط کی رقم اور تاریخ کا عنقریب اعلان۔ تربیتی اجتماع سے پروفیسر ایس اے شکور کا خطاب
حیدرآباد 14 جون (پریس نوٹ) اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے انکشاف کیا ہے کہ مملکتی وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے اس بات کا تیقن دیا ہے کہ اس سال ایر انڈیا کو سختی کے ساتھ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عازمین حج کی پروازوں میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرے ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیراہتمام عابڈز فنکشن ہال بوگل کنٹہ میں عازمین حج کے چوتھے تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ حال ہی میں دہلی میں مرکزی حج کمیٹی کے زیراہتمام حج کانفرنس منعقد ہوئی جس میں حج 2014 ء کے انتظامات و تجربات کا تجزیہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس سال انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ پروفیسر شکور نے بتایا کہ اس کانفرنس کے دوران مملکتی وزیر خارجہ نے گزشتہ سال ایر انڈیا کی پروازوں کی تاخیر کی شکایات کا سخت نوٹ لیا اور کہاکہ اس مرتبہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جنرل وی کے سنگھ نے یہ بھی کہاکہ وہ مختلف امبارکیشن پوائنٹس کا اچانک دورہ کریں گے اور حالات کا شخصی طور پر جائزہ لیں گے۔ ان کے اس تیقن سے حج کمیٹی کو بڑا حوصلہ ملا ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے عازمین حج سے خواہش کی کہ وہ اس مقدس سفر میں ہر ہر مرحلہ پر صبر و سکون کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور مناسک کی ادائیگی کے دوران حضرت ابراہیمؑ ، حضرت اسماعیلؑ اور بی بی ہاجرہ کی قربانیوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حج کو یاد رکھیں۔ ان مقدس ہستیوں کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے مقابلہ میں آج کل جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ رائی برابر بھی نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ابھی مصارف حج کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ نہیں آئی ہے جیسے ہی تاریخ اور رقم کا تعین ہو اس کا میڈیا کے ذریعہ اعلان کیا جائے گا اور عازمین کو ایس ایم ایس کے ذریعہ بھی مطلع کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ اس سال حجاج کرام سے قربانی کے لئے 469 سعودی ریال اور مدینہ منورہ میں آٹھ دن کے طعام کے لئے 152 ریال چارج کئے جائیں گے۔ مولانا مفتی محمد امجد نے فضائل و مناسک حج و عمرہ بیان کئے اور عازمین کو بتایا کہ وہ حج اور عمرہ کے ضروری اُمور، فرائض و واجبات کو ذہن نشین رکھیں اور یہ یاد رکھیں کہ حج صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا جائے۔ اُنھوں نے حج کے فرائض اور واجبات تفصیل کے ساتھ بیان کئے۔ اُنھوں نے کہاکہ احرام باندھنے کے ساتھ ہی اس کی شرائط کی پابندی کرنا لازمی ہے ورنہ اس کی خلاف ورزی پر دم یعنی قربانی دینا پڑتی ہے۔ مولانا مفتی ابوبکر نے زیارت روضہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے آداب بیان کئے اور عازمین سے کہاکہ وہ جب بھی مدینہ منورہ کی مقدس و متبرک سرزمین پر قدم رکھیں تو یہ تصور کریں کہ یہاں کائنات کی مقدس ترین ہستی آرام فرما ہے۔ اس لئے یہاں جس قدر ادب و احترام ہوسکتا ہے اس کا مظاہرہ کریں۔ بلند آواز میں بات نہ کریں، دربار رسالت ﷺ میں درود شریف کا ہدیہ جس قدر زیادہ ہوسکے بھیجتے رہیں۔ مدینہ منورہ کی سرزمین سے ہی اسلام کو تقویت حاصل ہوئی اور یہیں سے اسلام کا اُجالا دنیا میں پھیلا۔ مکہ معظمہ میں جلال کا اور مدینہ منورہ میں جمال کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ الحاج محمد فاروق علی حسامی نے احرام باندھنے کا طریقہ دکھایا اور احرام کی شرائط بیان کئے۔ مولانا قادر محی الدین اور جناب عرفان شریف نے انتظامات کی نگرانی کی۔