طیارہ دہشت گردی کا شکار نہیں ہوا ، مزید دو نعشیں برآمد

ایئر ایشیاء کے کاک پٹ وائس ریکارڈر کے نصف حصہ کا تجزیہ مکمل
لندن ۔ 20 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) انڈونیشیائی تلاشی ٹیم نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ حادثہ کا شکار ایئر ایشیاء کی QZ8501 فلائیٹ دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنی ۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر کے تجزیئے کے بعد انھوں نے جو سب سے پہلا ریمارک کیا وہ یہی تھا ۔ دریں اثناء بی بی سی نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے تحقیقاتی آفیسر انڈریس ہنانٹو کے مطابق کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر کی دو گھنٹے تک سماعت کے دوران انھیں یہ معلوم ہوگیا کہ حادثہ کے وقت طیارہ پر کوئی دہشت گرد موجود نہیں تھا کیونکہ دھمکی آمیز کوئی آواز سنائی نہیں دی ۔ انھوں نے کہا کہ ریکارڈنگ کی سماعت کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پائلٹ اُس وقت طیارہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کررہا تھا تاکہ زمینی اسٹاف کو خطرہ کا سگنل بھیج سکے ۔ علاوہ ازیں ریکارڈر کی سماعت کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ طیارہ انتہائی خراب موسم میں پھنس گیا تھا۔ مسٹر ہنانٹو نے مزید کہا کہ مزید 1200پیرامیٹرس کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی یہ معلوم ہوگا کہ موسم کی قطعی صورتحال کیا تھی اور اُس کا طیارہ کے انجن پر کیا منفی اثر پڑا ۔ اب تک کاک پٹ وائس ریکارڈر کے صرف نصف حصہ کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 ڈسمبر کو بدنصیب طیارہ 162 مسافروں کے ساتھ بحیرہ جاوا میں غرقاب ہوگیا ۔ اُس نے سرابیا سے اُڑان بھری تھی اور اُس کی منزل مقصود سنگاپور تھی جہاں وہ پہنچ ہی نہیںسکا ۔ مزید برآں مزید دو نعشوں کے حصول کے بعد اب تک ملنے والی نعشوں کی جملہ تعداد 53 ہوگئی ہے اور اس طرح 109 افراد ہنوز لاپتہ ہیں یا پھر مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کی غذا بن چکے ہیں ۔ حکام 28 جنوری کو طیارہ حادثہ کے بارے میں ایک ابتدائی رپورٹ جاری کریں گے ۔