طوفان ہد ہد کو قومی آفات قرار دینے وزیراعظم سے چندرا بابو نائیڈو کی درخواست

حیدرآباد/ وشاکھاپٹنم ۔12اکٹوبر ( پی ٹی آئی) انتہائی شدید طوفان ’ہُد ہُد‘ آج ہولناک آندھی اور موسلادھار بارش کے ساتھ آج وشاکھاپٹنم سے ٹکرایا جس کے نتیجہ میں آندھراپردیش کے تین ساحلی اضلاع میں بھاری نقصانات ہوئے اور عام زندگی پوری طرح مفلوج ہوگئی ۔ طوفان کی سنگین صورتحال اور بدترین تباہی کے پیش نظر چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مرکز سے درخواست کی ہے کہ طوفان کو قومی آفت قرار دینے کا اعلان کیا جائے ۔ 170تا 180کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں اور انتہائی موسلادھار بارش کے ساتھ ہدہد نے ساحلی اضلاع وشاکھاپٹنم ‘ سریکاکلم اور وجیا نگرم میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس کے نتیجہ میں کئی گھنے درخت ‘ برقی کھمبے اکھڑ گئے اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا ۔ طوفان کے سبب مواصلاتی رابطے منقطع ہوگئے اور برقی سربراہی مسدود ہوجانے کے سبب کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ۔ بارش کے دوران دیوار اور درخت گرنے کے سبب اضلاع سریکاکلم اور وشاکھاپٹنم میں تین افراد فوت ہوگئے ۔ بندرگاہی شہر وشاکھاپٹنم میں کئی افراد نے کہا کہ ’’ ہوائیں اس قدر تیز تھیں کہ اُن کے اثر سے بلند عمارتوں کی کھڑکیوں کو بند کئے جانے کے باوجود آندھی اور طوفان کے سنگین اثرات محسوس کئے جارہے تھے ‘‘ ۔ وشاکھاپٹنم میں کل رات سے برقی سربراہی منقطع ہے اور مواصلاتی رابطے بھی یکلخت ناکارہ ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام ٹیلی ویژن دیکھنے سے قاصر ہے اور معلومات کیلئے ریڈیو کی خبروں پر انحصار کررہے ہیں ۔ چندرابابو نائیڈو کو آج حیدرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کا فون کال موصول ہوا جنہوں نے انہیں بتایا کہ عوام کو امداد کی فراہمی کیلئے ریاستی حکومت ممکنہ حد تک بہترین مساعی میں مصروف ہے ۔ طوفان ہُد ہُد آج دن کے 11.20بجے وشاکھاپٹنم سے ٹکرایا لیکن اس کے اثر سے طوفانی ہواؤں اور موسلادھار بارش کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔ مغربی و مشرقی گوداوری ‘ وشاکھاپٹنم ‘ وجیا نگرم اور سریکاکلم کے کئی مقامات پر طوفانی بارش ریکارڈ کی گئی ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں طوفان سے پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا اور اس عہد کا اظہار کیا کہ معمول کے حالات کی بحالی تک وہ امدادی کام جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے ساری کابینہ کو کل دوپہر تک وشاکھاپٹنم پہنچ جانے کی ہدایت کی ۔ اس بات کا انکشاف اُن کے مشیر ( مواصلات) پرکالا پربھاکر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کیا ۔ چندرا بابو نائیڈو نے وزیراعظم مودی کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے طوفان ہدہد کو قومی آفت قرار دیا جائے ۔ انہوں نے مرکز سے یہ درخواست بھی کی کہ اس ریاست کو فوری طور پر 2000 کروڑ روپئے پر مشتمل عبوری امدادی پیکیج دیا جائے ۔ حکومت آندھراپردیش کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ شعبہ کے مطابق طوفان سے متاثرہ چار ساحلی اضلاع کے 320 مواضعات بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور تاحال 1,35,262افراد کا تخلیہ کرتے ہوئے انہیں ریلیف کیمپوں کو منتقل کیا گیاہے ۔ راحت و امدادی کاموں کیلئے چار فوجی کالمس کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 24ٹیمیں اور 6ہیلی کاپٹرس کو تعینات کیا گیا ہے ۔ چندرابابو نائیڈو نے عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ برقی کھمبوں ‘ ٹرانسفارمرس ‘ ریلوے لائن ‘ تالابوں اور ذخائر آب کی بحالی کیلئے کل سے جنگی خطوط پر کام شروع کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ متاثرین اور اُن کے خاندانوں کو نقصانات کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔ اس طوفان کے سبب ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان آئندہ منگل کو وشاکھاپٹنم میں مقرر ونڈے انٹرنیشنل میچ کے انعقاد کے بارے میں بھی غیریقینی پیدا ہوگئی ہے ۔