تلنگانہ کی پیشکش کو آندھرا پردیش سے جواب کا انتظار ، کے سی آر کی تلنگانہ کلکٹروں کو ہدایت
حیدرآباد۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ہد ہد طوفان سے متاثرہ آندھراپردیش ریاست کیلئے ہر ممکن تعاون کا پیشکش کیا تاہم چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت آندھراپردیش حکومت ایسا محسوس ہوتا ہیکہ تلنگانہ حکومت سے کسی طرح کی امداد قبول کرنے تیار نہیں۔ چندر شیکھر راؤ کی ہدایت پر چیف سکریٹری تلنگانہ ڈاکٹر راجیو شرما نے چیف سکریٹری آندھراپردیش آئی وائی آر کرشنا راؤ سے ربط پیدا کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا پیشکش کیا اور خواہش کی کہ متاثرین کی امداد اور بازآبادکاری کیلئے جن اشیاء کی ضرورت ہے ، ان سے تلنگانہ حکومت کو واقف کرایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری کی اس تجویز پر آندھراپردیش حکومت نے تاحال کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ تلنگانہ حکومت اپنی پیشکش کے سلسلہ میں آندھراپردیش سے جواب کی منتظر ہے، جو ہد ہد طوفان کے سبب بھیانک تباہی کا سامنا کر رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ وشاکھاپٹنم اور دیگر اضلاع میں زبردست تباہی کی اطلاع ملتے ہی نئی دہلی میں موجود کے سی آر نے چیف سکریٹری تلنگانہ سے ربط پیدا کرتے ہوئے مکمل تعاون کیلئے آندھراپردیش کو پیشکش کرنے کی ہدایت دی، جس کے مطابق تلنگانہ کے چیف سکریٹری نے آندھراپردیش کے چیف سکریٹری سے ربط پیدا کیا تھا ۔ چندر شیکھر راؤ رات میں حیدرآباد واپس ہوئے اور انہوں نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہد ہد طوفان سے تلنگانہ کے اضلاع میں ہوئے نقصانات کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ انہوں نے اضلاع کھمم ، ورنگل اور عادل آباد کے ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ چوکسی برقرار رکھیں کیونکہ طوفان کے اثر سے ان اضلاع میں شدید بارش کا امکان ہے۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس کے علاوہ آر ڈی اوز ، ایم آر اوز ، ایم پی ڈی اوز اور مقامی عوامی نمائندوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ اضلاع میں موجود رہتے ہوئے عوام سے تعاون کریں۔ شدید بارش سے متاثرہ علاقوں کے عوام کو محفوظ مقامات منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ کے سی آر نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ٹیلیفون پر ربط قائم کرتے ہوئے طوفان کے زیر اثر تلنگانہ اضلاع کی صورتحال سے واقف کرایا ۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی پیشکش کو قبول کرنے کی صورت میں چندر شیکھر راؤ مالی امداد کے علاوہ ادویات اور غذائی اجناس سربراہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف آندھراپردیش حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر تلنگانہ حکومت متاثرین کی امداد میں تعاون کیلئے سنجیدہ ہوں تو اسے پیشکش کے بجائے امداد کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔