طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ، پولیس ہیڈکوارٹر کے روبرو احتجاج جاری

نئی دہلی۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنی بھوک ہڑتال سے سبکدوشی اختیار کرلی۔ تاہم پولیس ہیڈکوارٹرس کے باہر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ قبل ازیں احتجاجی طلباء پر پولیس کے مبینہ حملے کے خلاف برہم دہلی میں واقعہ مختلف جامعات سے وابستہ طلباء نے آج یہاں پولیس ہیڈکوارٹرس کے روبرو مظاہرہ کیا جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ واضح رہے کہ ایک ویڈیو میں یہ دیکھا گیا کہ ایک دلت اسکالر روہت ویمولہ کی خودکشی واقعہ کے خلاف آر ایس ایس ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی مظاہرہ کے دوران طلباء کے ایک گروپ پر پولیس لاٹھیاں اور مُکّے برسا رہی ہے، جس پر طلباء برادری اور سیاسی حلقوں میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا، جبکہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے قصوروار پولیس عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کرانتی کاری یووا سنگھٹن (کے وائی ایس) اور بائیں بازو کی حامی آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن نے آج پولیس ہیڈکوارٹرس کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجی طلباء پر حملہ کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر شیلا رشمہ نے شکایت کی کہ حکومت نے ہمارے مطالبات نظرانداز کردیا ہے۔ پولیس نے ہمیں سبق سکھانے کیلئے حملہ کردیا تاکہ احتجاجی طلباء بھی وہی راستہ اختیار کریں جیسا کہ دلت اسکالر نے مظالم سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تھی۔ کے وائی ایس احتجاجیوں نے کہا کہ پولیس کمشنر دہلی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پولیس نے طلباء کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیوں کیا ہے اور کس نے ایسا کرنے کی ہدایت کون دیا تھا۔

گوکہ طلباء کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس نے پھرتی دکھائی ہے لیکن اعلیٰ عہدیداران ماتحت عملہ کے خلاف کارروائی میں تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ طلباء کے احتجاج سے پولیس ہیڈکوارٹرس کے قرب و جوار سے گذرنے والی ٹریفک درہم برہم ہوگئی ہے جہاں پر گاڑیوں کو روک دیا گیا تھا۔ طلباء کا یہ الزام ہے کہ جب بھی وہ کسی مسئلہ پر مظاہرہ یا صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں، پولیس ان کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 مرکزی وزراء کی ہدایت پر پولیس نے طلباء کو منصوبہ بند طریقہ سے نشانہ بنایا ہے جس کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائے اور ویڈیو میں یہ واضح نظر آرہا ہے کہ پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈے ، طلباء پر حملہ کررہے ہیں اور طالبات کے ساتھ بدتمیزی اور اُنہیں سَر کے بالوں سے گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں۔ ایک اور احتجاجی نیکیتا نے الزام عائد کیا کہ دہلی پولیس کا حقیقی چہرہ ’’خاکی‘‘ نہیں ’’زعفرانی‘‘ ہے جوکہ ’’مرکزی حکومت کی خانگی فوج‘‘ کی طرح کام کررہی ہے۔ دریں اثناء لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے آج دہلی پولیس کے جوائنٹ کمشنر ایس کے گوتم کو طلب کیا اور آر ایس ایس دفتر کے باہر احتجاجی طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اس واقعہ پر ملک بھر میں غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب مسٹر ایس کے گوتم جوکہ دہلی پولیس سنٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر تھے، لیفٹننٹ گورنر کو ان حالات سے واقف کروایا جس کی وجہ سے پولیس کو حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بَسی کی ہدایت پر جوائنٹ کمشنر گوتم اس واقعہ کی تحقیاقت کریں گے تاہم پولیس کمشنر بسی نے پولیس کی کارروائی کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ احتجاجی طلباء نے پولیس کو مشتعل کیا تھا جس کے سبب انہیں سخت کارروائی پر مجبور ہونا پڑا۔