طلبا نئی علیگڈھ تحریک ‘‘ شروع کریں : نجیب جنگ

علیگڈھ 17 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طلبا پر ’’ نئی علیگڈھ تحریک ‘‘ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے آج کہا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی نئی نسل کیلئے ایک بہترین مقام ہے جہاں سے وہ سکیولر ازم اور سیاست جیسے امور پر از سر نو غور کرسکتے ہیں۔ 90 سالہ قدیم علیگڈھ مسلم یونیورسٹی میں سالانہ سر سید ڈے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجیب جنگ نے اس خیال کا اظہار کیا ۔ سر سید ڈے علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کے یوم پیدائش پر منایا جاتا ہے ۔ نجیب جنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی وہ بہترین مقام ہے جہاں سے طلبا اور نئی نسل سکیولر ازم ‘ قوم پرستی ‘ انسانیت اور سیاست جیسے شعبوں پر از سر نو غور کرسکتی ہے اور جائزہ لے سکتی ہے ۔ مشرق وسطی کے مشہور ماہر تعلیم عبدالعزیز عثمان التواجری نے مشرق کے ممالک پر اور تمام ایشیائی باشندوں پر زور دیا کہ وہ مذہب ‘ ذات پات اور قومیت کے اختلافات کو فراموش کردیں اور 21 ویں صدی کے چیلنجس کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرسکیں۔ التواجری نے عصر حاضر کی نوآبادیاتی طاقتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ مشرق کے عوام میں پھوٹ ڈال کر راج کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاکہ ان کے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل ہوسکے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر مشرق کے عوام نئے عالمی نظام سے پیش آنے والے چینلجس سے نمٹنے تیار ہوجائیں اور وہ گہری انسانیت کی بنیاد پر زندگی گذارنے ک یقاء ہوجائیں تو مغرب کے ممالک پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی اپنی قدیم پالیسی میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی اب ہندوستان کے تعلیمی اداروں اور مشرق وسطی کے تعلیمی اداروں کے مابین بامعنی رشتوں کو استوار کرنے میں ایک اہم رول ادا کرسکتی ہے ۔ علیگڈھ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا سے اپنے خطاب میں نجیب جنگ نے اس ادارہ کے ساتھ اپنے اجداد مولوی سمیع اللہ خاں اور حمید اللہ خان کی وابستگی کا تذکرہ کیا اور یونیورسٹی کے بانی کے یوم کی تقریب سے خطاب کو اپنے لئے اعزاز قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں جو لوگ اپنے آپ میں یقین رکھتے ہوئے جدوجہد کرتے ہیں ان کیلئے پیدائش اور خاندان کی مراعات بے معنی ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے طلبا پر زور دیا کہ وہ آسمان چھونے کی کوشش کریں اور کامیاب بن جائیں۔ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یونیورسٹی تاریخ کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے اور وہ صرف تعلیم نہیں بلکہ قوم کی تعمیر کے شعبہ میں بھی اپنا رول ادا کرنا چاہتی ہے ۔