طب نبویؐ کے ادویات کے ذریعہ علاج و معالجہ کا مشورہ

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( پریس نوٹ ) : ڈاکٹر محمد عبدالوحید ڈائرکٹر سنٹرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یونانی میڈیسن حیدرآباد نے یونانی اطباء اور ریسرچ اسکالرس کو مشورہ دیا کہ وہ حضورؐ کی بتائی ہوئی طب نبویؐ کی دواؤں پر علاج و معالجہ کریں اور دواؤں کو دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مزید ریسرچ کر کے ان دواؤں کو عام کریں ۔ انہوں نے محمدیہ پراڈکٹس کی جانب سے کلونجی تیل اور کلونجی سے تیار کردہ دیگر دواؤں کو مفید اور کار آمد قرار دیا اور عوام الناس کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا ۔ ڈاکٹر یم اے وحید نے کل ہند صنعتی نمائش میں محمدیہ پراڈکٹس کریم نگر آندھرا پردیش کی جانب سے سول اسٹاکسٹ آندھرا پردیش یس جے ایجنسیز کے کلونجی تیل اور کلونجی کے دیگر دواؤں کے اسٹال کا افتتاح کرنے کے بعد یہ بات کہی ۔ ڈاکٹر میر یوسف علی ایڈیشنل ڈائرکٹر یونانی محکمہ آیوش نے اپنی تقریر میں آندھرا پردیش میں تیار کردہ تمام یونانی دواؤں کی فارمیسی میں محمدیہ پراڈکٹس کی دواوں کو معیاری اور قابل بھروسہ قرار دیا

اور کہا کہ محمدیہ پراڈکٹس حضور ؐ کی بتائی ہوئی دوا کلونجی سے دوائیں تیار کررہی ہیں اور کلونجی کا تیل نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان کے مختلف ریاستوں اور بیرونی ممالک میں استعمال کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر محمدیہ پراڈکٹس کے انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی ۔ حکیم سید غوث الدین سابق مشیر یونانی حکومت آندھرا پردیش نے کہا کہ حضور ؐ کا ارشاد ہے کہ ’ کالے دانوں کو اپنالو اس میں سوائے موت کے تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے ‘ وہ کالے دانے کلونجی کے ہیں چنانچہ محمدیہ پراڈکٹس نے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کلونجی سے تیل نکالا اور کلونجی کے ساتھ دیگر دواؤں کے ذریعے کئی دوائیں تیار کی جو مختلف امراض میں تیر بہ ہدف کام کررہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کلونجی کے تیل سے کالج آف فارمیسی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں دو ریسرچ اسکالرس مرض شوگر کے علاوہ معدہ کے امراض پر کام کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حیدرآباد اور کریم نگر میں فارمیسی کے ریسرچ اسکالرس کلونجی تیل پر کام کررہے ہیں اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ انہوں نے طب نبویؐ کی دواؤں کو استعمال کرنے کا عوام کو مشورہ دیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شیخ قمر الدین ڈرگ انسپکٹر ، ڈاکٹر احمد شفیع الدین ، ڈاکٹر فہیم الدین انصاری سینئیر میڈیکل آفیسر یونانی ڈسپنسری شمس آباد اطباء اور ڈاکٹرز کی کثیر تعداد موجود تھی ۔۔