کابل ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی طالبان نے حملے تیز کردیے ہیں اور ساتھ افغان عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔طالبان نے کہا ہے کہ ‘اماراتِ اسلامیہ’ اپنے تمام مجاہدین کو حکم دیتی ہے کہ وہ امریکہ کی قیادت میں ملک بھر میں ہونے والے انتخابی عمل کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر اسے روکیں۔ افغانستان میں طالبان نے رواں ماہ ہونے والے انتخابات کو "جعلی” اور "مکمل طور پر بوگس” قرار دیتے ہوئے انتخابی عمل کے دوران حملوں کی دھمکی دی ہے۔پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں طالبان قیادت نے اپنے جنگجووں کو انتخابی عمل انجام دینے والے سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی فورسزپر حملوں کا حکم دیا ہے۔طالبان نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور عوام سے انتخابات کے بائیکاٹ کی بھی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انتخابی عمل کا مقصد "محض ان کٹھ پتلیوں کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے جنہیں قابض قوتوں نے افغانستان پر مسلط کیا ہے۔”بیان میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ سکیورٹی فراہم کرکے انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں نشانہ بنایا جانا چاہیے اور طالبان اس امریکی سازش کو روکنے اور ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔طالبان کی اس دھمکی کے بعد 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اور دوران سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔