طالبان قائد ملا فضل اللہ امریکی ڈرون حملہ میں ہلاک

واشنگٹن ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی فوج نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مشرقی کنارصوبہ میں فوج نے ایک سینیئر دہشت گرد کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ایسے مقام پر حملے کئے جہاں پاکستانی طالبان سربراہ ملا فضل اللہ روپوش تھا۔ لیفٹننٹ کرنل مارٹن اورڈینیل نے کہا کہ 13 جون کو امریکی فوج نے کنار صوبہ میں ایک جوابی حملہ کیا جو افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے جو دراصل ایک مصدقہ دہشت گرد قائد کا ٹھکانہ بتایا گیا ہے۔ البتہ یہ وضاحت بھی کی گئی ہیکہ افغان حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ جنگ بندی کا جو معاہدہ کیا ہے، امریکی فورسیس نے بھی اس معاہدہ کو ملحوظ رکھا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ یہ گروپ پشاور کے ایک فوجی اسکول پر 2014ء میں دہشت گردانہ حملہ کرنے کا ذمہ دار ہے جس میں زائد از 150 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت اسکولی بچوں کی تھی۔ اس گروپ کو تحریک طالبان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس نے القاعدہ سے اپنے الحاق کا بھی اعلان کیا تھا جس نے ٹائم اسکوائر بمبار فیصل شہزاد کو دھماکو اشیاء کے استعمال کی تربیت بھی فراہم کی تھی۔ آخر میں ملا فضل اللہ کی امریکی ڈرون حملہ میں ہلاکت کی توثیق کی گئی۔