ضلع پریشد انتخابات میں سکیولر جماعتوں سے مفاہمت کا فیصلہ

غیرموسمی بارش سے زرعی نقصانات کا جائزہ ، سی پی آئی کا اجلاس ، عزیز پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد۔ 21 اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں آئندہ ماہ مئی کے دوران منعقد ہونے والے ادارہ جات مقامی ضلع پریشدوں و منڈل پریشدوں کے انتخابات میں سکیولر جماعتوں و طاقتوں کے ساتھ مل کر سی پی آئی تلنگانہ حصہ لے گی۔ سیکریٹری تلنگانہ ریاستی سی پی آئی سی ایچ وینکٹ ریڈی نے یہ بات بتائی اور کہا کہ جن زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز سے سی بی آئی کو کامیابی کی توقع ہوگی، ان ہی زیڈ پی ٹی سیز اور ایم پی ٹی سیز پر اپنے امیدواروں کو سی پی آئی انتخابی مقابلہ میں اتارے گی۔ وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ سی پی آئی ریاستی عاملہ کا اجلاس گزشتہ دن کے شنکر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ریاست میں غیرموسمی بارش سے پیش آئے نقصانات کے سلسلے میں متاثرہ کاشت کاروں کو مکمل معاوضہ فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے اجلاس میں باقاعدہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔ علاوہ غیرموسمی بارش کے دوران بجلی گرنے کے باعث پیش آئے اموات کے سلسلے میں مہلوکین کے افراد خاندان کو کم از کم 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا رقم فراہم کرنے کا ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا۔ اسی دوران قومی رکن عاملہ سی پی آئی و سابق رکن پارلیمان سید عزیز پاشاہ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ قومی سطح پر جاری لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ہرگز اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہیں رہے گی۔

انہوں نے نریندر مودی پر فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا نریندر مودی پر الزام عائد کیا اور کہا کہ نریندر مودی اس مرتبہ اپنی ان کوششوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔ عزیز پاشاہ نے مزید کہا کہ سی پی آئی کو نچلی سطح سے فعال و کارکرد بنانے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے گی تاکہ ریاست تلنگانہ میں سی پی آئی کا سابقہ موقف بحال ہوسکے۔ اس موقع پر پی وینکٹ ریڈی اور کے سامبا شیوا راؤ ریاستی سی پی آئی قائدین بھی موجود تھے۔