نئی دہلی ۔ 27 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سی بی آئی نے دو رشتہ کی بہنوں کی مشتبہ حالت میں موت کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں جن کی نعشیں اترپردیش کے ضلع بدایوں میں ماہ مئی کے دوران ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں ۔ تحقیقات میں یہ الزام جھوٹا ثابت ہوا کہ ان لڑکیوں کی اجتماعی عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا گیا تھا ۔ سی بی آئی نے 40 سائنٹفک رپورٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ بدایوں میں دو کمسن لڑکیوں کی نہ ہی عصمت ریزی کی گئی اور نہ ہی قتل کیا گیا ۔ جیسا کہ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا ۔ سی بی آئی ترجمان کنچن پرساد نے آج بتایا کہ سی بی آئی کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ خود کشی کا معاملہ ہے ۔ سی بی آئی نے ماہ جون میں مذکورہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھی ۔ جس میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان لڑکیوں کی عصمت ریزی یا پھر قتل کردیا گیا ہو توقع ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی کل بدایوں عدالت میں قطعی رپورٹ پیش کردے گی ۔ سی بی آئی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اترپردیش پولیس کی جانب سے گرفتار پپو ، اودیش اور اردیش یادو (تینوں بھائی ) کانسٹبل چھتریال یادو اور سرویش یادو کے خلاف چارج شیٹ ( فرد جرم) پیش نہ کیا جائے جن پر مذکورہ لڑکیوں کی عصمت ریزی اور قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ رشتہ کی دو بہنیں بالترتیب 14 سال اور 15 سال ہے ۔ ماہ مئی کے اواخر میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئیں ۔ اس سنسنی خیز واقعہ پر ملک بھر میں برہمی پیدا ہوگئی تھی ۔ جب کہ سماج وادی پارٹی حکومت کو امن و قانون کی صورتحال پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ تاہم متوفی لڑکیوں کے والدین نے بھی خود کشی واقعہ پر متضاد بیانات دئیے تھے لیکن حیدرآباد میں واقع سنٹر فار DNA فنگر پرنٹنگ اینڈ ڈائگناسٹک نے لڑکیوں پر جنسی حملہ کے امکان کو مسترد کردیا ۔۔