ضلعی کلکٹرس کی صدارت میں ڈسٹرکٹ وقف پروٹیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ

کلکٹرس صدر نشین کمیٹی ہوں گے ، اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود اے پی کے احکام
حیدرآباد۔13۔اکتوبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت نے ضلع کلکٹر کی صدارت میں ڈسٹرکٹ وقف پروٹیکشن کمیٹیوں کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود جناب سید عمر جلیل نے آج احکامات جاری کئے۔ جی او ایم ایس 18 کے مطابق 2002 ء میں جی او ایم ایس 374 کے ذریعہ ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں لیکن ان کمیٹیوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے اور ضلع سطح پر کوئی جائزہ اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ حکومت نے از سر نو ہر ضلع میں پولیس ریونیو اور دیگر عہدیداروں پر مشتمل پروٹیکشن کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع کلکٹر کمیٹی کے صدرنشین ہوں گے جبکہ ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر جو ڈسٹرکٹ وقف آفیسر بھی ہوتے ہیں، وہ کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔ ارکان میں ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس ، جوائنٹ کلکٹر ، سب کلکٹر ، میونسپل کمشنر، ڈسٹرکٹ پنچایت آفیسر ، اگزیکیٹیو انجنیئر آر اینڈ بی، ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر ، اسسٹنٹ ڈائرکٹر ایس ایل آر ، ڈسٹرکٹ رجسٹرار اور ڈیویژنل فارسٹ آفیسر شامل ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر ڈی آر او کے ذریعہ ضلع میں اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے بارے میں رپورٹ پیش کریں گے تاکہ ان کے خلاف وقف ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاسکے۔ ہر ماہ جائیدادوں کے موقف کے بارے میں رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ ڈسٹرکٹ وقف پروٹیکشن کمیٹی تمام محکمہ جات کے باہمی تال میل کے ذریعہ ناجائز
قبضوں کی برخواستگی اور مستقبل میں قبضوں کو روکنے کے اقدامات کرے گی ۔ کمیٹی کا ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا جس کی رپورٹ کمشنر اقلیتی بہبود کو پیش کی جائے گی ۔کمشنر اقلیتی بہبود ضلع وقف پروٹیکشن کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے ۔ ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس ناجائز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں حکام سے مکمل تعاون کریں گے اور قابضین کے خلاف فوجداری مقدمات درج کریں گے ۔ جی او میں دیگر محکمہ جات کو بھی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ کلکٹرس سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ کمیٹی کے اجلاس اور کمشنر اقلیتی بہبود کو ماہانہ رپورٹ کی پیشکشی کے سلسلہ میں اقدامات کریں۔