حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شب معراج کے موقع پر نفل نماز صلاۃ التسبیح کا باجماعت اہتمام کیا جائے تو بڑی تعداد میں اس نماز کو ادا کرکے ثواب حاصل کرنے کی توقع ہے۔ اس غرض سے صلاۃ التسبیح کا باجماعت ادا کرنا شرعا کیسا ہے ؟ بینوا تؤجروا
جواب : صورت مسئول عنہا میں صلاۃ التسبیح میں ہر شخص کو ہر رکعت میں پچہتر (۷۵) مرتبہ تسبیح پڑھنا ہے۔ اس طرح کُل چار رکعت میں تین سو (۳۰۰) مرتبہ تسبیح پڑھنا ہے۔ اور یہ ایک انفرادی نفل نماز ہے۔ اس کو باجماعت پڑھنا درست نہیں۔ ردالمحتار جلد اول ص ۵۰۸ میں ہے : وھی أربع بتسلیمۃ أو تسلیمتین یقول فیھا ثلاث مائۃ مرۃ سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر وفی روایۃ زیادۃ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ یقول ذلک فی کل رکعۃ خمسۃ و سبعین مرۃ۔ اور ص ۵۲۴ میں ہے: والنفل بالجماعۃ غیر مستحبۃ لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیر رمضان۔ فقط واﷲ اعلم
والدین کو برائی سے روکنا یا نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے والد نہایت اچھے انسان ہیں، وہ زید کا بہت خیال رکھتے ہیں لیکن ان میں ایک خامی ہے کہ وہ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں، اس سے زید کو بہت تکلیف ہوتی ہے اور وہ نمازوں کا زیادہ اہتمام نہیں کرتے ۔ زید نماز پابندی سے پڑھتا ہے۔ زید کو ڈر ہوتا ہے کہ ان کو شراب پینے اور نماز ترک کرنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب ہوگا ۔ اس کے علاوہ دنیوی اعتبار سے وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ ایسی صورت میں زید کو کیا کرنا چاہئے جبکہ زید ان کو سمجھا نہیں سکتا اور وہ سمجھ نہیں سکتے ؟
جواب : امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والدین میں غیر شرعی عمل کو دیکھے تو اس کو اجازت ہے کہ وہ نہایت ادب و احترام کے ساتھ ان کی خدمت میں اس عمل کی برائی کو ظاہر کرے اور نہایت سنجیدگی اور نرمی سے ان کو اس عمل سے روکے لیکن ان کو شدت سے نہیں روکنا چاہئے ۔ اگر وہ بات قبول کرلیں تو ٹھیک ورنہ ان کے لئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے۔ نفع المفتی والسائل ص ۱۲۲ میں ہے : فان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر فیہ منفعۃ من امرہ و نھاہ عن المنکر والاب والام أحق بأن ینفع لھما … لکن ینبغی ان لا یعنف علی الوالدین فان قبلا فبھا والا سکت و اشتغل بالا ستغفار لھما کذا فی نصاب الاحتساب۔
خطبہ کے دوران چھینکنے والے کا الحمد للہ کہنا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بسا اوقات جمعہ کے خطبہ دوران چھینک آجاتی ہے ، ایسے وقت میں الحمد للہ کہنا چاہئے یا نہیں جبکہ یہ بات مشہور ہے کہ خطبہ کے دوران سرکار کا نام مبارک آئے تو درود نہیں پڑھنا چاہئے۔ تو کیا چھینکنے والے پر الحمد للہ کہنا ضروری ہے یا نہیں ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں جب خطیب خطبہ کے لئے نکلے تو بفحوائے حدیث شریف نہ کوئی نماز ہے اورنہ کلام کرنا ہے ۔ دوران خطبہ ہمہ تن گوش ہوکر خطبہ سننا لازم ہے۔ دوران خطبہ بات چیت حتی کہ ذکر و اذکار بھی منع ہیں اس لئے اگر کسی شخص کو خطیب کے خطبہ دیتے وقت چھینک آجائے تو اس پر شرعاً ’’ الحمد للہ ‘‘ کہنا نہیں ہے۔ تاہم صحیح قول یہی ہے کہ ایسا شخص دل میں الحمد للہ کہہ لے۔ بدائع الضائع جلد اول ص ۴۰۴میں ہے : وأما العاطس فھل یحمد اﷲ تعالیٰ ؟ فالصحیح : أنہ یقول ذلک فی نفسہ لان ذلک لمالا یشغلہ عن سماع الخطبۃ۔ فقط واﷲ اعلم