صرف معلومات طلبی‘مقدمات سے دستبرداری نہیں:اکھلیش

لکھنو۔6جنوری(سیاست ڈاٹ کام ) مظفرنگر فسادات کے سلسلہ میں مسلم قائدین کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کی حکومت اترپردیش کی کوششوں پر آج ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا جب کہ چیف منسٹر اکھلیش یادو نے کہاکہ صرف بعض معلومات طلب کی گئی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ مقدمات سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس بارے میں ایک سوال پر کہا کہ یہ سماج وادی پارٹی کایا ہمارا فیصلہ نہیں ہے ۔ لاء ڈپارٹمنٹ نے بعض معلومات طلب کی ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ مقدمات سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے۔

اس دوران مظفر نگر کے ضلع حکام نے مسلم قائدین کے خلاف مقدمہ سے دستبرداری کے سلسلہ میں ابتدائی رپورٹ ریاستی حکومت کو روانہ کردی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کشال راج شرما نے کہا کہ لاء ڈپارٹمنٹ کو مسلم قائدین کے خلاف مقدمہ سے دستبرداری سے متعلق رپورٹ روانہ کردی گئی ہے لیکن مکمل رپورٹ اُسی وقت بھیجی جاسکتی ہے جب اس معاملہ میں تحقیقات پوری ہوجائے ۔ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ ایس آئی ٹی نے مسلم قائدین کے خلاف مقدمہ کی تحقیقات مکمل نہیں کی ہے اور اس سلسلہ میں چارج شیٹ ابھی پیش کی جانی ہے ۔

جب تک تحقیقات پوری نہ ہو اُس وقت تک مکمل رپورٹ نہیںپیش کی جاسکتی ہے ۔ا سپیشل سکریٹری ( قانون) رنگناتھ پانڈے نے 20ڈسمبر کو مظفرنگر کے ضلع مجسٹریٹ کے نام اپنے مکتوب میں بی ایس پی رکن پارلیمنٹ قدیر رانا اور دوسروں کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کے بارے میں لکھا تھا ۔ یہ افراد فسادات کے دوران نفرت انگیز تقاریر اور تشدد بھڑکانے کے الزامات کا سامنا کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس ضمن میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ پولیس سے رائے بھی طلب کی تھی۔