صرف شادی کے مقصد سے تبدیلی مذہب درست نہیں : عدالت

الہ آباد 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک اہم فیصلے میں الہ آباد ہائیکورٹ نے آج کہا کہ اسلام میں یقین اور عقیدہ کے بغیر صرف مسلم لڑکوں سے شادی رچانے کیلئے لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی کو درست قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ جسٹس سوریہ پرکاش کیسروانی نے یہ حکمنامہ جاری کیا جبکہ انہوں نے پانچ جوڑوں کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں کو مسترد کردیا ۔ ان جوڑوں کو اتر پردیش کے مختلف اضلاع سے تعلق تھا اور انہوں نے شادی شدہ جوڑے کی طرح انہیں تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی تھی ۔ ہر مسئلہ میں لڑکے مسلمان تھے اور لڑکیاں ہندو تھیں جنہوں نے صرف نکاح کے مقصد سے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا ۔ اپنے سابقہ حکمنامہ میں جو جاریہ ہفتے کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا جسٹس کیسروانی نے سپریم کورٹ کے 2000 میں جاری کردہ ایک حکمنامہ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کسی غیر مسلم کی جانب سے اسلام میں یقین

اور عقیدہ کے بغیر صرف شادی کے مقصد سے مذہب تبدیل کرنا جائز نہیں ہوسکتا ۔ انہوں نے قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ سے پڑھتے ہوئے حوالہ دیا اور کہا کہ یہ یہ شادیاں قرآن کے دوسرے سورہ اور آیت نمبر 221 کے یکسر مغائر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ غیر مسلم لڑکیوں سے شادی مت کرو تاوقتیکہ وہ اسلام قبول نہ کرلیں اور نہ ہی اپنی لڑکیوں کو غیر مسلموں سے بیاہو تاوقتیکہ وہ اسلام قبول نہ کرلیں۔ عدالت نے اپنے حکمنامہ میں کہا کہ جن لڑکیوں نے عدالت میں درخواستیں دائر کی تھیں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اسلام کے تعلق سے کچھ بھی معلوم نہیں تھا اور نہ ہی اسلام کی تعلیمات سے وقاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لڑکوں نے صرف ان سے شادی کرنے کے مقصد سے ان کا مذہب تبدیل کیا تھا ۔