حیدرآباد،28 جولائی(یواین آئی) صدی کا طویل ترین چاند گہن کل شب ہوا۔ یہ سال 2018میں 5گہن (تین سورج اور دو چاند ) میں چوتھا تھا ، یہ مکمل چاند گہن تھا جو پورے ہندوستان میں دکھائی دیا ۔دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور اے پی میں لوگوں نے بڑی تعداد میں اس انوکھے چاند گہن کا مشاہدہ کیا۔لوگوں میں چاند گہن کے تعلق سے کافی جوش وخروش دیکھاگیا۔حیدرآباد کے برلاپلانٹوریم میں اس انوکھے مشاہدہ کا انتظام کیا گیا تھا جہاں پہنچ کر لوگوں کی بڑی تعداد نے اس نادر مظاہرہ کا مشاہدہ کیا۔برلاپلانٹوریم میں عصری سائنسی آلات کے ذریعہ چاند گہن کامشاہدہ کروایا گیا۔ساتھ ہی چاند گہن کی تفصیلات سے بھی لوگوں کو واقف کروایاگیا۔چاند گہن سے متعلق بچوں میں بھی کافی جوش وخروش دیکھاگیا۔لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر بھی چڑھ کر چاند گہن کا نظارہ کیا ۔شہر حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب بھی لوگ جمع ہوئے اور چاند گہن کا نظارہ کیا۔ چاند گہن کے سبب منادر بندرہیں ۔منادر کو صبح پانچ بجے کھولا گیا اور صبح نوبجے سے درشن کا آغاز ہوا۔اس چاند گہن کا آغاز 10:45بجے شب سے ہوااور اختتام 28جولائی کو 4بجکر 59منٹ پر ہوا۔ اس دوران چاند زمین کے سایے میں مکمل طور پر چھپ گیا تھا۔ 2018ء میں 31جنوری کو پہلا چاندگہن لگاتھا ۔ 16فروری 2018کو جزوی سورج گہن ‘ 13جولائی 2018کو جزوی سورج گہن ہوا اور 27جولائی کو مکمل چاند گہن تھا۔چاند گہن کے موقع پر مریخ سورج کے سامنے آگیا تھا جس کی وجہ سے سورج ‘ زمین اور مریخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوگئے تھے۔