صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ مخالف اقلیت

اسمبلی و پارلیمنٹ انتخابی مقابلہ کے لیے مسلم اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام ، محمد علی شبیر کی تنقید
حیدرآباد ۔19 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ محمد علی شبیر نے صدر ٹی آر ایس چندر شیکھر راؤ کو مخالف اقلیت قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں اقلیتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کے سی آر نے اپنی اقلیت دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔ علماء اور دانشوروں کے اجلاس میں کے سی آر کی جانب سے اقلیتی امیدواروں کو ٹکٹ نہ دیئے جانے کی وجوہات پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ سیاسی زندگی میں ہمیشہ عوام کو خوش کن وعدوں کے سلسلہ میں ووٹ حاصل کرنے کے بعد وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایجی ٹیشن کے دوران کے سی آر نے اقلیتوں کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن ریاست کی تقسیم کے ساتھ ہی وہ اپنے وعدوں کو بھول گئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے قیام کے بعد سے ہی اقلیتوں کے بارے میں کے سی آر کا رویہ ٹھیک نہیں۔ وہ کبھی بھی عوام کے ہمدرد نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے انتخابی حلقوں کو تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اسمبلی اور لوک سبھا میں نمائندگی کیلئے آئندہ پانچ برسوں تک انتظار کرنے سے متعلق کے سی آر کی تجویز افسوسناک ہے۔

اگر انہیں اقلیتوں کو پانچ سال بعد نمائندگی دینی ہے تو پھر اقلیتوں کے ووٹ بھی آئندہ الیکشن میں مانگنے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات تک ٹی آر ایس کا موقف کیا ہوگا اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ محمد علی شبیر نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کی اہمیت کو جانیں اور آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں جس نے تلنگانہ کی تشکیل کو یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کے سی آر پر واضح کردیں کہ مجوزہ انتخابات کے بجائے 2019 ء کے انتخابات میں ہی وہ اقلیتوں کی تائید کیلئے رجوع ہوں۔انہوں نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے اقلیتوں کی نمائندگی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عام انتخابات کے بعد قومی سطح پر بی جے پی کی تائید کریں گے ۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تلنگانہ عوام کانگریس پارٹی کو بھاری ا کثریت کے ساتھ کامیاب کرتے ہوئے تشکیل حکومت کی راہ ہموار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کو یقینی بنایا ہے اور عوام اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔