صدر طلباء یونین دہلی یونیورسٹی پر الزام

نئی دہلی ۔ 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی یونیورسٹی کی تائیدی یونین این ایس یو آئی نے آج نئے منتخبہ اے بی وی پی صدر انکیو بائی سیوا پر الزام لگایا کہ وہ یونیورسٹی میں داخلہ کیلئے جعلی اسنادات داخل کئے ہیں لیکن اے بی وی پی نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ این ایس یو کا الزام غلط ہے کیونکہ یونیورسٹی نے تمام اسنادات کی مکمل جانچ کے بعد ان کو داخلہ دیا ہے۔ کہا گیا ہیکہ توالور یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیا گیا بی اے سرٹیفکیٹ جعلی تھا۔ این ایس یو آئی نے الزام لگایا کہ ایم اے (بدھزم) میں داخلہ کیلئے بسویا نے تھیرا ولووار یونیورسٹی سے جاری کیا گیا میمو داخل کیا تھا۔ یونیورسٹی نے اس طرح کے کوئی مارک میمو جاری کرنے سے قطعی انکار کردیا ہے اور وضاحت کی کہ اس طرح کے نام نمبر کا کوئی بھی ریکارڈ ان کے پاس دستیاب نہیں ہے۔ این ایس یو آئی کے اس الزام کو اے بی وی پی نے صرف ایک پروپگنڈہ قرار دیا ہے۔