صدام حسین کے نائب عزت ابراہیم الدوری تکریت کے قریب ہلاک

بغداد 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) عراقی عہدیداروں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سرکاری افواج نے صدام حسین کے سابق نائب عزت ابراہیم الدوری کو ہلاک کردیا ہے ۔ عزت ابراہیم نے بعد میں دولت اسلامیہ کے تخریب کاروں کی حمایت کی تھی ۔ عزت ابراہیم الدوری کو کنگ آف کلبس قرار دیا جاتا تھا ۔ عراق میں تاش کھیلنے کے کلبس کا قیام عمل میں آیا تھا تاکہ امریکی افواج وہاں صدام حسین دور حکومت کے اہم ارکان کی وہاں شناخت کرسکیں ۔صوبہ صلاح الدین کے گورنر رائد الجبوری نے کہا کہ سرکاری فوجیوں اور اتحادی شیعہ عسکریت پسندوں نے ابراہیم الدوری کوآج صبح کی اولین ساعتوں میں شہر تکریب کے مشرق میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک کردیا ہے ۔ حکومت نے ایک نعش کی تصویر جاری کی ہے جو کہا جا رہا ہے کہ الدوری کی ہے ۔ سینئر علاقائی کمانڈر جنرل حیدر البصری نے عراقی سرکاری ٹی وی سے کہا کہ ابراہیم الدوری اور نو باڈی گارڈز ایک قافلہ میں سفر کر رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی جس میں وہ ہلاک ہوگئے ۔ نعش کی شناخت کیلئے ڈی این اے کے معائنے کئے جا رہے ہیں۔

اس دوران عراقی سکیوریٹی فورسیس نے ملک کے جنوبی علاقہ میں ایک علاقہ پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جہاں پہلے باغیوں کا قبضہ تھا ۔ صوبہ صلاح الدین اور تکریت میں کچھ علاقوں سے سرکاری فوج کا تسلط ختم ہوگیا تھا ۔ جنرل ایاز اللہبی نے جو صوبہ صلاح الدین کمانڈ سنٹر سے وابستہ ہیں بتایا کہ فوج نے اتحادی حملوں کی مدد کی اور شیعہ سنی ملیشیا کے ارکان کو بھی اپنی صفوں میں شامل کرتے ہوئے الملبہ اور المزرح نامی شہروں پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے جو بیجی آئیل ریفائنری سے تین کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں داعش کے عسکریت پسندوں سے جھڑپیں ہوئیں اور 160 سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ اللہبی نے کہا کہ سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے آئیل ریفائنری کے اطراف دو راہداریوں پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جہاں داعش کے ارکان لڑائی میں مصروف ہیں۔ باغیوں نے یہاں گذشتہ ہفتے حملہ کیا تھا

اور انہوں نے ریفائنری کی دیواروں سے بھاری گاڑیاں ٹکرائی تھیں۔ داعش گروپ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے گذشتہ سال موسم سرما میں صوبہ صلاح الدین کے بیشتر علاقوں پر اپنی پیشرفت کے دوران قبضہ کرلیا تھا ۔ انہوں نے شمالی اور مغربی عراق میں اپنی کارروائیوں کے دوران پیشرفت کی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ موصل شہر سے باغیوں کو نکال باہر کرنے کی سمت تکریت کی لڑائی کو اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے ۔ موصل صوبہ نینوا کا دوسرا بڑا شہر اور دارالحکومت ہے ۔ نومبر میں عراقی سکیوریٹی فورسیس نے کہا کہ انہوں نے عسکری گروپ سے بائیجی شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرلیا ہے ۔ عسکریت پسندوں نے حالانکہ ابھی تک ریفائنری پر کوئی قبضہ نہیں کیا ہے لیکن داعش کی جانب سے اس پر مسلسل حملے کئے جاتے رہے ہیں۔صوبہ عنبر میں تاہم عراقی خصوصی فورسیس نے صوبائی دارالحکومت پر اپنا قبضہ اور کنٹرول برقرار رکھا ہے ۔