صداقت نامہ پیدائش کا حصول دشوار کن مسئلہ ، عوام پریشان حال

شرائط کی پابندی ، درخواست گذاروں کے لیے درد سر ، شرائط پر نظر ثانی کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 22 ۔ دسمبر : ( عبدالرشید سلفی) : پیدائشی صداقت نامہ کا حصول ان دنوں عوام کے لیے ایک سنگین اور دشوار کن مسئلہ بن چکا ہے اور پیدائشی صداقت نامہ کے لیے عائد کئے گئے غیر ضروری شرائط اور سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے درکار طویل مدت کا عرصہ عوام کے لیے درد سر بنا ہوا ہے اور برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے درکار غیر ضروری شرائط پر نظر ثانی کرتے ہوئے شرائط میں نرمی سے متعلق ضروری اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ پیدائشی صداقت نامہ کے حصول کے لیے لازم کئے گئے غیر ضروری شرائط جیسے ایس ایس سی کا مارکس میمو ، ٹی سی یا بونافائیڈ کو ضروری قرار دیا گیا جب کہ اگر کوئی فرد غیر تعلیم یافتہ ہو تو اس کے لیے بانڈ پیپر پر حلف نامہ داخل کرنا ۔ اس طرح سے برتھ سرٹیفیکٹ کو حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے محکمہ گرام پنچایت یا میونسپلٹی سے Non Availability Certificate حاصل کرنا اور اس سرٹیفیکٹ کے حصول کے بعد ایس ایس سی یا بونافائیڈ یا ٹی سی کی زیراکس کاپی کو درخواست اور NAC سرٹیفیکٹ کے ساتھ منسلک کر کے مقامی وی آر او اور ریونیو انسپکٹر سے تصدیق کروا کر مقامی تحصیل آفس میں درخواست کو داخل کیا جاتا ہے اور دی گئی درخواست مقامی تحصیل آفس میں چند دن رہنے کے بعد آر ڈی او آفس کو ذریعہ آن لائن داخل کی جاتی ہے جب کہ آر ڈی او آفس میں مذکورہ فائل کو ایک عرصہ تک برفدان کی نذر کردیا جاتا ہے اور جب درخواست کنندے تحصیل آفس کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتے ہیں تب کہیں دو تا 3 ماہ بعد مذکورہ فائل یا تو درست حالت میں تحصیل آفس کو آتی ہے یا تو کچھ نقائص کے ساتھ واپس آتی ہے ۔ جب کہ حقیقی پیدائشی صداقت نامہ تو لڑکا یا لڑکی کے تولد ہوتے ہی ہاسپٹل ہی میں دے دیا جاتاہے جس کو برتھ سرٹیفیکٹ بھی کہا جاتا ہے ۔ جس کو بعض افراد ہاسپٹل میں دئیے جانے والے سرٹیفیکٹ کو ہی برتھ سرٹیفیکٹ تصور کرلیتے ہیں اور وہ گرام پنچایت یا میونسپلٹی سے رجوع ہو کر برتھ سرٹیفیکٹ نکالنے سے متعلق شعور نہیں رکھتے ۔ جب کہ بعض تعلیم یافتہ افراد بھی عدم واقفیت یا جانے انجانے بھی گرام پنچایت یا میونسپلٹی سے برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول سے قاصر رہتے ہیں ۔ جب انہیں ایک عرصہ کے بعد اپنے بچوں کے برتھ سرٹیفیکٹس کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ سرٹیفیکٹ کے حصول کے لیے گرام پنچایت یا میونسپلٹی ، تحصیل آفس اور آر ڈی او آفس کے ارد گرد حیران و سرگرداں چکر کاٹتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ ان دنوں میں برتھ سرٹیفیکٹ کی کافی اہمیت ہوگئی ہے ۔ پاسپورٹ کی اجرائی اور ملازمت کے حصول کے لیے برتھ سرٹیفیکٹ انتہائی لازم قرار دیا جارہا ہے ۔ ریاست تلنگانہ کے عوام کو حصول برتھ سرٹیفیکٹ کے مرحلہ کو آسان اور سہیل بنانے کے لیے حکومت تلنگانہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برتھ سرٹیفیکٹ کی اجرائی کے لیے لازم غیر ضروری شرائط کو برخاست کرتے ہوئے برتھ سرٹیفیکٹ کی اجرائی کے لیے درکار 3 تا 6 ماہ کے وقفہ میں تخفیف کرے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ برتھ سرٹیفیکٹ کے حصول کے سابقہ متحدہ آندھرا پردیش ریاست کے طریقہ کار کو برخاست کرتے ہوئے جدید ریاست تلنگانہ میں جدید قانون نافذ کرتے ہوئے پیدائش کے بعد ہاسپٹل سے جاری کئے جانے والے سرٹیفیکٹ کے تحت تحقیقات کر کے برتھ سرٹیفیکٹ جاری کرنے کے لیے تحصیلداروں کو اختیارات دے تاکہ مذکورہ سرٹیفیکٹ کے حصول میں عوام کو درپیش مسائل سے نجات اور راحت نصیب ہوسکے ۔۔