کابل ۔13اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر افغانستان حامدکرزئی کے جانشین کے انتخاب کی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے اُن کے سابق حریف جو سیاست میں سرگرم ہیں ‘ کہا کہ وہ سابق صدر انتخابات میں دھاندلیوں کا اپنے سابق حریف کرزئی سے ’’انتقام‘‘ نہیں لیں گے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ صدارتی انتخابات میں کرزئی نے دھاندلیوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کی تھی ۔ سابق ماہر امراض چشم اور 1980ء کی دہائی میں حملہ آور سویت یونین کے خلاف مزاحمت کرنے والے عبداللہ عبداللہ 2001ء سے 2005ء تک کرزئی کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں ۔ 2009ء کے انتخابات میں جو بین الاقوامی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی وجہ سے بدنام ہوچکے ہیں ۔
عبداللہ عبداللہ نے کرزئی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے رائے دہی میں دھاندلیوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہے ۔ عبداللہ عبداللہ سابق عالمی بینک کے ماہر معاشیات اشرف غنی کے ساتھ کرزئی کے جانشین کی دوڑ میں دو سب سے آگے رہنے والے امیدوار ہیں ۔ ناگوار موسم اور طالبان کی دھمکیوں کے باوجود گذشتہ ہفتہ 70لاکھ عوام نے حق رائے کا استعمال کیا ۔ مبصرین کو طویل عرصہ سے شبہ ہے کہ حامد کرزئی ملک کی سیاست میں صدر کے عہدہ سے دستبرداری کے بعد ہی اہم کردار ادا کریں گے ۔ ان شکوک و شبہات کو آج مزید تقویت حاصل ہوئی ۔ جب کہ قصرصدارت میں داخلے کے امکانی امیدوار ہیں ۔ مستقبل میں کرزئی کیلئے سیاست میں اہم کردار کا اشارہ دیا ۔
کرزئی کے بھائی قیوم بھی مقابلے میں تھے لیکن انہوں نے دستبرداری اختیار کرلی اور زلمے رسول کی تائید کی جو صدارتی انتخابات کی دوڑ میں تیسرے مقام پر ہے ۔ کرزئی اب بھی عبداللہ عبداللہ کی نظر میں ایک اہم شخصیت ہیں ۔ جنوبی پختونستان میں اب بھی ان کے حامیوں کی کثیر تعداد موجود ہیں ۔ کیونکہ یہ افغانستان کا سب سے قبیلہ ہے۔ اس لئے کرزئی کی اہمیت بھی برقرار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرزئی کا آئندہ اہم سیاسی کردار قدرتی ہے لیکن اس کا انحصار ان کے فیصلہ پر ہوگا ۔ اس سوال پر کہ کیا وہ برسوں سے کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات کی بنیاد پر کرزئی اور ان کے بھائیوں کے خلاف کارروائی کریں گے ‘ انہوں نے کہا کہ وہ انتقامی سیاست میں یقین نہیں رکھتے ۔ قوم کی ترجیحات کے مطابق کام کریں گے ۔ آج شام تک توقع ہے کہ ابتدائی نتائج کا اعلان ہوجائے گا ۔