شادی ، ذہنی و قلبی امراض اور عارضہ تنہائی کا بہترین علاج
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : عام طور پر شادی کو ایک ایسا لڈو کہا جاتا ہے جو کھائے پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شادی کچھ لوگوں کے لیے پھولوں کا بستر تو بعض کے لیے کانٹوں بھرا بستر ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو شادی انسان کے لیے بے حد مفید اور فائدہ بخش ہے ۔ اگر کوئی بالکل چست و چوبند و صحت مند رہنے کا خواہاں ہو اسے امراض قلب و دیگر امراض سے محفوظ رہنا ہے ۔ اگر کوئی زندگی میں ذہنی و قلبی سکون کا متلاشی ہو ، ذہنی دباؤ سے محفوظ رہنے کی تمنا رکھتا ہو خوشحال زندگی گذارنے کا متمنی ہو تو خود اسے شادی کرلینی چاہئے ۔ کیوں کہ شادی اسے بے شمار بیماریوں سے بچائے رکھتی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ شادی زنا جیسے کبیرہ گناہ سے انسان کو بچاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ نکاح کو اتنا آسان بناؤ کہ زنا مشکل ہوجائے ۔ چنانچہ یہ دیکھا گیا کہ جس معاشرہ میں شادی شدہ مرد و خواتین کی تعداد زیادہ ہے وہاں زنا کے واقعات بہت کم پیش آتے ہیں ۔ پچھلے دو دہوں کے دوران کئے گئے مختلف سروے اسٹیڈیز سے یہ انکشافات ہوئے ہیں شادی شدہ مرد و خواتین امراض قلب اور فالج سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ان سروے میں 42 تا 77 سال کے عمر کے حامل دو ملین ( 20 لاکھ ) سے زائد مرد و خواتین کے انٹرویوز لیے گئے ۔ ایک طبی جریدہ ’ ہارٹ ‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ شادی کرنے والے جوڑوں میں کافی خوشحالی پائی گئی وہ مختلف عوارض سے محفوظ رہے جب کہ غیر شادی شدہ مرد و خواتین امراض قلب ، ذہنی امراض میں مبتلا پائے گئے ۔ اس کے علاوہ انہیں فالج کا جوکھم یا خطرہ بھی زیادہ پایا گیا ۔ یہ سروے زیادہ تر مغربی ممالک کی مشہور و معروف یونیورسٹیز اور طبی و تحقیقی اداروں کی جانب سے کئے گئے تھے جس میں یوروپ ، شمالی امریکہ ، مشرق وسطی اور ایشیاء میں مقیم مختلف نسلی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کی گئی ۔ میڈیکل جرنل ہارٹ کے مطابق شادی شدہ زندگی گزارنے والے جوڑوں کے برخلاف مطلقہ ، بیوہ ، رنڈوا یا زندگی میں کبھی شادی نہ کرنے والوں میں امراض قلب پیدا ہونے کا جوکھم 42 فیصد زیادہ پایا گیا اور دل کے شریانوں سے جڑی بیماریوں کے خطرات 16 فیصد زیادہ پائے گئے ۔ اس کے علاوہ ان امراض سے مرنے کے خطرات بھی غیر شادی شدہ لوگوں میں شادی شدہ لوگوں کی بہ نسبت 42 فیصد زیادہ پائے گئے ۔ لیکن فالج کا جوکھم خواتین کی بہ نسبت مردوں میں زیادہ پایا گیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بڑھتی عمر ، بلند فشار خون ( ہائی بلڈ پریشر ) ہائی کولیسٹرال ، سگریٹ یا تمباکو نوشی اور ذیابیطس امراض قلب کی اہم وجوہات ہوتی ہیں لیکن شادی شدہ زندگی امراض قلب کا باعث بننے والی تمام وجوہات کا سدباب کرتی ہے ۔ محققین کی رپورٹ کا لب لباب یہی ہے کہ شادی گناہوں اور بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتی ہے ۔ شادی شدہ زندگی انسان کو جہاں ذہنی قلبی اور جسمانی سکون و راحت عطا کرتی ہے وہیں غیر شادی شدہ زندگی انسان کو تفکرات ، بے چینی و بے قراری ، ذہنی و قلبی دباؤ چھڑ چھڑے پن ، لوگوں سے دوری اور تنہائی پسندی کا شکار بنادیتی ہے ۔ شادی شدہ انسانوں میں غیر شادی شدہ انسانوں کی بہ نسبت جذبہ انسانی ہمدردی محبت و مروت دوسروں کے جذبات و احساسات کا احترام بہت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ سب سے بڑی ہماری تنہائی ہے ۔ شادی سے انسان اس بیماری سے بچ جاتا ہے ۔ مختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ شادی شدہ لوگ بآسانی نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور غیر شادی شدہ بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں ۔۔