صحافیوں کے بچوں کو مفت تعلیم ، احکامات بے فیض

حکومت کے اعلانات دھرے کے دھرے رہ گئے، اولیائے طلبہ پر فیس ادائیگی کا دباؤ
حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے صحافیوں کے بچوں کیلئے حکومت تلنگانہ نے مفت تعلیم کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ضلع ایجوکیشن آفیسر کے توسط سے خانگی اسکولوں کے نام جو احکام جاری کئے تھے، وہ بھی دیگر اعلانات کی طرح دھرے کے دھرے رہ گئے۔ حکومت کی جانب سے صحافیوں کو مراعات کی فراہمی کے طور پر خانگی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے صحافیوں کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جو کہ عدالتی رسہ کشی کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان احکامات کے سلسلے میں خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے عدالت سے رجوع ہونے کے فوری بعد دیگر ان اسکولوں کے رویہ میں اچانک تبدیلی آگئی جو ضلع ایجوکیشن عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عمل آوری کررہے تھے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے فی الحال اس مسئلہ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن بیشتر اسکولوں کی جانب سے اولیائے طلبہ کو نوٹسیں جاری کردی گئی ہیں کہ وہ جاریہ سال کی مکمل فیس فوری طور پر ادا کریں بصورت دیگر طلبہ کو امتحان تحریر کرنے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے صحافیوں کیلئے اعلان کردہ اسکیم کا یہ حال ہے تو اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست میں معلنہ دیگر اسکیمات کی صورتحال کیا ہوگی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر حیدرآباد کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر کے مطابق محکمہ تعلیمات کا کوئی عہدیدار کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے جبکہ خانگی اسکول انتظامیہ ان احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ معاملہ عدالت میں زیردوراں ہے ، اس لئے وہ ان احکامات کو قبول نہیں کرسکتے، اسی لئے صحافیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی فیس فوری طور پر ادا کردیں۔