میرا بیٹا خوشی کے ساتھ گیا تھا لیکن آج گھر ماتم کدہ بن گیا، والد کا تاثر
حیدرآباد /10 جون ( سیاست نیوز ) ہماچل پردیش کے کلو میں پیش آئے اندوہناک واقعہ کے بعد تلاشی مہم ہنوز جاری ہے ۔ غرقاب طلباء میںبی ایچ ای ایل کے محمد صابر حسین شیخ بھی شامل ہیں ۔ اس نوجوان طالب علم اور دیگر لاپتہ طلباء کی نعش کا پتہ چلانے کی نعش کو کیلئے ہنوز کوششیں جاری ہیں۔ ریلوے ملازم شیخ خواجہ کے تیسرے فرزند صابر حسین شیخ وی این آر وگیان جیوتی انجینئیرنگ کالج واقع باچوپلی نظام پیٹ سائبرآباد سال دوم میں زیر تعلیم تھے وہ کالج انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی تفریح کیلئے اپنے ساتھی طلباء کے ہمراہ شمالی ہند بشمول شملہ کے دورہ پر 6 جون کو روانہ ہوئے تھے ۔ بیاس ندی میں لارجی ڈیم ہائڈل پراجکٹ کے تحت اچانک پانی کے اخراج سے جملہ 24 طلباء بشمول 6 لڑکیاں بہہ گئی تھیں ۔ مسٹر شیخ خواجہ نے سیاست نیوز کو بتایا کہ ان کے فرزند صابر حسین شیخ گھر سے جاتے وقت بے حد خوش تھے لیکن دو دن میں ان کا گھر ماتم کدہ میں بدل گیا۔ حادثہ کے باعث سارے ارکان خاندان پر سکتہ طاری ہوگیا ۔