شیوسینا کی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کا مطالبہ

بی جے پی اور شیوسینا وعدوں پر عمل میں ناکام ، اے ایم خاں رکن راجیہ سبھا کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر ایم اے خاں نے مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا سوشہ چھوڑنے والی شیوسینا کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کا الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ۔ مسٹر ایم اے خاں نے کہا کہ بی جے پی اور شیوسینا پر مہاراشٹرا اور ملک کے عوام نے اعتماد کا اظہار کیا تاہم دونوں جماعتیں عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک منظم سازش کے تحت تقریبا ایک سال سے مسلمانوں کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت بالخصوص کسی بھی سیاسی جماعت کا ووٹ بینک نہیں ہے ۔ ملک کی آزادی سے قبل بھی ہندوتوا طاقتیں مسلمانوں کے خلاف تھی آزادی کے 60 سال بعد اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات جاری کرتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مسلمانوں کی ملک میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ کانگریس کی دین ہے ۔ کانگریس پارٹی نے ہندوتوا طاقتوں کے مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو دیگر ابنائے وطن کے ساتھ ترقی دینے کا مکمل موقع فراہم کیا ہے اور سیکولرازم کو استحکام کرنے ملک کو جمہوری اصولوں پر قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ جس کی وجہ مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی طبقات کانگریس کے ساتھ ہیں جو ہندوتوا طاقتو کے لیے کھٹک رہے ہیں ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا نے ہمیشہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ شیوسینا بھول رہی ہے کہ الیکشن کمیشن نے سربراہ شیوسینا بال ٹھاکرے کو 6 سال کے لیے حق رائے دہی سے محروم کردیا تھا ۔ مسٹر ایم اے خاں نے مذہبی جذبات بھڑکانے کا نوٹ لیتے ہوئے شیوسینا کی سیاسی مسلمہ حیثیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمانوں میں جذبہ ایمانی طاقت موجود ہے کوئی بھی طاقت مسلمانوں کے خلاف کوئی بھی کام نہیں کرسکتی ۔ کانگریس پارٹی شیوسینا کے بیان کی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔