شیلا ڈکشٹ مستعفی کلیان سنگھ راجستھان کے گورنر

نئی دہلی۔/26اگسٹ، ( سیاست ڈاٹ کام ) یو پی اے حکومت کے تقرر کردہ ایک اور گورنر شیلا ڈکشٹ نے آج استعفی دے دیا۔ نریندر مودی حکومت نے چار ریاستوں کے گورنروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ اترپردیش کے سابق چیف منسٹر کلیان سنگھ کو راجستھان کا گورنر مقرر کیا گیا جبکہ مہاراشٹرا ، کرناٹک اور گوا کیلئے بھی دیگر 3گورنروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر مارچ میں گورنر کیرالا کی حیثیت سے مقرر کئے جانے والی شیلا ڈکشٹ نے اپنے عہدہ سے استعفی کیلئے دباؤ کے بعد آج سبکدوشی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کل صدر جمہوریہ پرنب مکرجی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد انہوں نے استعفی کا اعلان کیا۔ مودی حکومت کی جانب سے سابق حکومت کے تقرر کردہ گورنروں کی برطرفی، استعفے لینے یا سبکدوشی کے بعد ہونے والے گورنر کے عہدوں پر تقررات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت نے آج راجستھان کیلئے 82سالہ کلیان سنگھ کو گورنر مقرر کیا ہے جہاں مارگریٹ الوا نے اس ماہ کے اوائل میں ہی اپنی میعاد پوری کرلی ہے۔ گجرات اسپیکر واجو بھائی والا کو کرناٹک کا گورنر بنایا گیا جہاں ایچ آر بھردواج نے بھی حال ہی میں اپنی میعاد پوری کرلی ہے۔ سابق مرکزی وزیر سی ودیا ساگر راؤ مہاراشٹرا کے گورنر کے شنکر نارائنن سے جائزہ حاصل کریں گے جنہوں نے اتوار کو میزورم تبادلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گورنر مہاراشٹرا کی حیثیت سے استعفے دے دیا تھا۔ بی جے پی مہیلا مورچہ کی سابق صدر 71سالہ نردولہ سنہا کو آر وی وانچو کی جگہ گوا کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ وانچو اُن گورنروں میں شامل ہیں جنہیں مرکز نے استعفی کی ہدایت دی تھی۔

راشٹرپتی بھون کے ایک اعلامیہ کے مطابق 82 سالہ کلیان سنگھ جئے پور میں مخلوعہ عہدہ سنبھالیں گے ، جہاں مارگریڈ الوا اس ماہ کے اوائل میں میعاد کی تکمیل کے بعد سبکدوش ہوگئی تھیں۔ کلیان سنگھ جو اترپردیش کے دو مرتبہ چیف منسٹر رہ چکے ہیں، بابری مسجد کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اپنی طرف سے کئے گئے وعدہ کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کی جانب سے 24 اکتوبر 1994 ء کو ایک دن کیلئے مجرم قرار دیئے گئے تھے۔ ماضی میں وہ دو مرتبہ بی جے پی چھوڑ گئے تھے ، تاہم بعد میں دوبارہ واپسی اختیار کی تھی۔ نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے سی ایچ ودیا ساگر راؤ ، سابق واجپائی حکومت میں مملکتی وزیر داخلہ کی حیثیت سے فرائض انجام دے چکے ہیں ۔ پیشہ کے اعتبار سے وکیل 69 سالہ ودیا ساگر راؤ تین مرتبہ آندھراپردیش قانون ساز اسمبلی کے منتخب ہوچکے ہیں اور ایوان میں بی جے پی کے فلور لیڈر بھی رہے ہیں۔