جن کے بہادری کے چرچے سارے ملک میں ہیں
ہندوستان کو ہر دور میں اس کی سرسبز و شادابی ، فطری حسن وسیع و عریض جنگلاتی علاقوں ، جنگلاتی زندگی ، بلند و بالا پہاڑوں ، پر سکون انداز میں بہتی نہروں ، بل کھاتی کھائیوں ، تیز رفتاری سے رواں دواں جھیلوں ، حسین مناظر پیش کرنے والی ندیوں اور انسانوں و حیوانوں کے لیے راحت و اطمینان کا ذریعہ بنے ہوئے سمندروں کے باعث کرہ ارض پر خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی ہمارے ملک کو رشک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جب کہ تاریخی لحاظ سے سونے کی اس چڑیا سے ہر کوئی واقف ہے ۔ ہندوستان کے جنگل ان میں رہنے والے چرند پرند کے بارے میں بھی دنیا دلچسپی کا اظہار کرتی آئی ہے ۔ جنگل ، جنگلی جانوروں کا جب بھی ذکر آتا ہے تو شکار اور شکاری کا ذکر بھی چل پڑتا ہے ۔ آزادی سے قبل چونکہ ہندوستان میں بادشاہوں ، نوابوں ، راو رجواڑوں کے زیر اقتدار دیسی ریاستیں ہوا کرتی تھیں ایسے میں شکار امراء و رئیسوں کا خاص شوق تھا اور حسن اتفاق سے کم از کم نوابوں میں یہ شوق اب بھی موجود ہے لیکن اس شوق کا وہ انسانوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔ ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں مایہ ناز شکاری پیدا ہوئے ایسے ہی شیر دل شکاریوں میں نواب شفاعت اللہ خان بھی شامل ہیں ۔ آج ہمارے شہر کے اس مایہ ناز شکاری کے سارے ملک میں چرچے ہیں ۔ یو پی ، مدھیہ پردیش ، بہار ، کرناٹک ، جیسی ریاستوں میں شیر دل شکاری نواب شفاعت علی خان نے آدم خور شیروں سے لے کر بدقماش و پاگل ہاتھیوں ، خطرناک چیتوں ، تیندوؤں ، کھیتوں و باغات کو تباہ کرنے والی نیل گائیوں سے لے کر شیر کی خالہ خطرناک جنگلی بلیوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے ہوئے عوام کو راحت دلائی ہے ۔ نواب شفاعت علی خان کو اپنے ہاتھوں خونخوار درندوں کی ہلاکت پر بہت افسوس ہوتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ بعض حالات میں اولاد آدم کو آدم خور درندوں کے نوالے بننے سے بچانے کے لیے انہیں موت کی نیند سلانا بہت ضروری ہوجاتا ہے ۔ نواب شفاعت علی خاں ہندوستان کے واحد شکاری ہیں جو محکمہ جنگلات سے تعلق نہ رکھتے ہوئے بھی اس محکمہ کی لاج رکھنے کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھاریٹی (NTCA) کے جو رہنمایانہ خطوط ہیں وہ اس وقت تک محکمہ جنگلات کے باہر کے آدمی کو آدم خور کے شکار کی اجازت نہیں دیتے جب تک کہ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کے پاس آدم خور سے نمٹنے موثر آلات یا اسلحہ نہ ہو ۔ انسانوں کو آدم خور شیروں اور درندوں کا لقمہ بننے سے بچانے کے لیے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ درندوں کو زمین چٹانے والے نواب شفاعت علی خان ایک رحمدل اور ہمدرد انسان ہیں ۔ انہیں جنگلات ، جنگلاتی زندگی اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کی بھی فکر دامن گیر رہتی ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ جنگلات کا کٹاؤ ، جانوروں کا خاتمہ اور آبی ذخائر کے دامنوں کو مٹی سے بھر کر ان پر بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر دراصل ماحولیاتی عدم توازن کا باعث بنتی ہے اور انسان کی یہی خود غرضی اور تباہ کن حرکتیں قہر خداوندی کو دعوت دیتی ہے ۔ آج دنیا میں زلزلے ، زمین تودوں کا کھسکنا ، طوفان و باد و باراں ، سونامی خشک سالی ، شدید گرمی ، یہ سب ماحولیاتی عدم توازن کے نتیجہ میں واقع ہورہے ہیں ۔ ماحولیاتی آلودگی تیزابی بارش کا باعث بن رہی ہے ۔ جنگلات کے خاتمہ نے انسان کو اپنی تباہی کے قریب پہنچا دیا ہے ۔ نواب شفاعت علی خاں نہ صرف ملک کے ممتاز شکاری ہیں اور اپنی بندوق کے ذریعہ درندوں کوٹھکانے لگاتے ہیں بلکہ وہ ایسا قلم بھی رکھتے ہیں جس سے نکلنے والا ہر لفظ ماحولیات کے تحفظ جنگلات اور جنگلی جانوروں سے محبت کا پیام دیتا ہے ۔ حال ہی میں انہوں نے Man eaters and wild life challenges نامی انگریزی کتاب قلم بند کی ہے جس میں اپنے مشہور شکاروں ، شکار کے دوران پیش آئے خطرناک واقعات اور جنگلاتی حیات کے تحفظ کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ یہ کتاب سوانح حیات نہیں بلکہ جنگلات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ کا ایک پیام ایک منصوبہ اور ایک پروگرام اور لائحہ عمل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ویسے بھی جنگلاتی زندگی کے بارے میں جاننے کا کس کو شوق نہیں ۔ بچے ، جوان بوڑھے ہر کوئی بڑی دلچسپی کے ساتھ جانوروں اور جنگلات کی بھیانک کہانیاں سن کر محظوظ ہوتے ہیں ۔ آدم خوروں کی خطرناک کہانیوں ، ان کا پتہ چلا کر ان تک پہنچنے کے دوران پیش آنے والے خطرناک حالات ، آدم خوروں سے اچانک آمنا سامنا ہونے پر جو وحشت ناک کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ یا پھر ان کے خونی پنجوں کا نشانہ بنتے بنتے بال بال بچ جانے کے بعد طاری ہونے والی ہئیبت کے بارے میں اپنے گھر میں آرام دہ صوفے پر بیٹھے آپ بھی نواب شفاعت علی خاں کی کتاب کا مطالبہ کرتے ہوئے واقف ہوسکتے ہیں ۔ 278 صفحات پر مشتمل اس دیدہ زیب کتاب کی قیمت صرف 599 روپئے رکھی گئی ہے جس میں کئی ایک نادر ونایاب تصاویر بھی قاری کو اپنی جانب کھینچتے ہیں ۔ اس کتاب میں نواب صاحب نے جنگلاتی حیات کے تحفظ کے لیے زرین مشورے بھی دئیے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانوں اور جانوروں میں خلیج بڑھتی جائے دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں تو جنگلات اور جنگلاتی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور اس کا خمیازہ انسانوں کو بھگتنا پڑے گا کیوں کہ جنگلات ماحولیاتی تباہی سے انسانوں کو بچانے کے لیے ایک مضبوط ڈھال ہے ۔ اپنی کتاب میں نواب شفاعت علی خان جہاں ماحولیات کے تحفظ کا مشورہ دیتے ہیں وہیں یہ بھی کہتے ہیں کہ قانون حق جنگلات 2006 پر عدم عمل آوری اور عوام دشمن پالیسیوں کے باعث جنگلاتی زندگی کو خطرات پیدا ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں جانوروں کے تحفظ کے لیے جو مشورے دئیے ہیں ان میں ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ موسم گرما کے دوران جانوروں کے لیے آفریقی گھاس لوشرن چارہ اور دیگر متبادل نباتات اگائے جائیں ۔ نواب شفاعت علی خاں کو ہماچل پردیش کے ضلع منتدی میں لوگ دعائیں دیتے ہیں انہوں نے وہاں ایک آدم خور چیتے کو ٹھکانے لگایا تھا ۔ فیض آباد اترپردیش کے جنگلوں میں تقریبا 35 دنوں تک انہوں نے ایک آدم خور شیرنی کا پیچھا کیا اور اسے موت کی نیند سلادیا ۔ اس شیرنی نے 5 افراد کو اپنا لقمہ بنایا تھا جب کہ اس کے حملہ میں کم از کم 35 افراد زخمی ہوئے تھے ۔ وہاں کی عوام ہمارے شہر کے اس شیر دل شکاری کو سلام کرتے ہیں ۔۔