شیخ الاسلا م انوار اللہ فاروقی ؒ مذہبی ‘تعلیمی ‘اصلاحی سرگرمیوں کے نقیب اورتاریخ ساز شخصیت

حیدرآباد۔ 15فروری (پریس نوٹ) جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ نے شیخ الاسلام حضرت حافظ محمد انواراللہ فاروقی ؒبانی جامعہ نظامیہ کی شخصیت کو بھر پور خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام نے جو علمی کارنامے اور مذہبی خدمات انجام دیں آج بھی عالم اسلام اس سے استفادہ کررہا ہے۔ فضیلت جنگ حضرت انواراللہ فاروقی ؒ کے عرس شریف کی صدی تقاریب کے ضمن میں اندراپریہ درشنی آڈیٹوریم باغ عامہ میں علمی مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے بحیثیت مہمانان خصوصی ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس علمی مذاکرہ میں سینکڑوں کی تعداد میں مردو خواتین سامعین شریک تھے۔ اس موقع پر شیخ الاسلام کی تصنیف حقیقت الفقہ کے دو حصوں کے مرکب کی رسم اجراء عمل میں آئی۔ اس علمی مذاکرہ کی نگرانی مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ ‘ صدارت مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بانی جامعہ کا ایک قائم کردہ ادارہ دائرۃ المعارف دنیا بھر میں شہرت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی ڈگریاں سابق میں سرکاری سطح پر تسلیم کی جاتی تھیں اور یہاں کے فارغین کو اعلی تعلیم کے مواقع حاصل تھے۔ مولوی کو ایس ایس سی ‘ عالم کو انٹر ‘ فاضل کو ڈگری ‘کامل کو پی جی کے ممثل تسلیم کیا جاتا تھا۔ دوبارہ ان ڈگریوں کو تسلیم کرنے کے سلسلہ میں حکومت تلنگانہ مثبت اقدامات کرے گی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راو ٔ خود بزرگان دین سے عقیدت رکھتے ہیں اور وہ صد سالہ عرس میں شریک ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ کی بارگاہ کے قریب گیسٹ ہاوز کی تعمیر کے لئے حکومت نے 5کروڑ کی منظوری دے دی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ان کے والد خود ایک مسجد کے امام تھے اور علماء دراصل حسن اخلاق کا ایک نمونہ ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں مسلمانوں کو حسن اخلاق پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعہ ازہر مصر کے نائب شیخ ڈاکٹر ابراہیم صلاح الھدھد نے اپنے خطاب میں کہا کہ شیخ الاسلام علمائے متشرع میں سے تھے اور ایک بہترین صوفی تھے ۔ تصوف قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ انہوں نے علم کلام ‘ علم فلسفہ اور دیگر علوم پر تحقیقی کام انجام دیاجسے دیکھ کر آج علمائے اسلام حیرت زدہ ہیں۔ شیخ ھدھد نے کہا کہ ہدایت کے لئے دراصل شریعت ایک راستہ ہے اور طریقت اس کے آداب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے مقرب بندوں کے پاس مسافات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ اللہ اپنی عطا سے ان کے مصافات کو ختم کردیتا ہے۔مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نے خیرمقدمی کلمات ادا کئے اور کہا کہ شیخ الاسلام کے عرس کی صدی تقاریب کا مقصد علم کی ترویج اور جہالت کو دور کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ قوم کامیاب ہوتی ہے جو نیکیوں کا حکم دیتی ہے اور برائیوں سے روکتی ہے ۔ جامعہ نظامیہ اس طریقہ کار پر اپنی خدمات انجام دیتا رہے گا۔ پاکستان کے مہمان مولانا ڈاکٹر سید عطاء اللہ حسینی قادری ملتانی فاضل جامعہ نظامیہ و سابق صدر شعبہ معارف اسلامیہ گورنمنٹ ڈگری کالج ملیر کراچی پاکستان نے اپنا مقالہ’’ حضرت شیخ الاسلام بہ حیثیت مجدد و مصلح ‘‘ کے عنوان پر پیش کیا۔ مولانا ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینی سجادہ نشین بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ گلبرگہ شریف نے’’ حضرت شیخ الاسلام ؒ کے صوفیانہ افکار‘‘ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔جناب میر کمال الدین علی خاں سکریٹری کل ہند صوفی کانفرنس نے اپنا مقالہ ’’ حضرت شیخ الاسلام کی تصنیفات و تالیفات میں حب رسول ؐ ‘‘ عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اردو و فارسی گلبرگہ یونیورسٹی نے اپنا مقالہ ’’حضرت شیخ الاسلام کے قائم کردہ تعلیمی و تحقیقی ادارے ‘‘ عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مفتی منظرالاسلام الازہری فارغ جامعہ ازہر حال مقیم امریکہ نے اپنا مقالہ ’’مذہب و فلسفہ عقل و سائنس ‘ کتاب العقل کے میزان میں‘‘ کے عنوان پر پیش کیا۔ مفتی مظہرالاسلام نے کہا کہ یونانی فلسفہ کو روکنے کے لئے جو چیلنج کیا گیا تھا اس کا جواب امام غزالی ؒ نے دیا تھا ۔ انہوں نے علمائے اسلام کو ایک نئی فکر عطا کی تھی۔ ان کے بعد کے علماء نے عقلیات کا سہارا لیاجسے انواراللہ فاروقی ؒ نے بخوبی اپنی تصانیف میں پیش کیا ہے۔ شیخ فرید ڈنگل عمان نے انگریزی زبان میں اپنا مقالہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی رضا کے لئے علم سیکھنے کی ضرورت ہے اور سیکھنے کے عمل کو ہمیشہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن مجید اس کے پڑھنے والوں کے لئے راہیں کھولتا ہوا نظر آتا ہے اور علماء نے ہر دور میں علم کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آن لائن تدریس کا کام انجام دیتے ہیں جس کے طلبہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ہمدرد دہلی نے اپنا مقالہ ’’ حضرت شیخ الاسلام بحیثیت داعیٔ اسلام ‘‘ پیش کیا۔ مولانا حافظ ڈاکٹر بشیرالحق قریشی لطیفی شیخ التفسیر دارالعلوم لطیفیہ ‘ ویلور ‘ ٹاملناڈو نے اپنا مقالہ ’’ حضرت شیخ الاسلام کا فلسفہ ٔ تعلیم و تربیت ‘‘ عنوان پر پیش کیا۔ مولانا محمد فصیح الدین نظامی مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ ابتداء میں مولاناحافظ احسن الحمومی امام مسجد باغ عامہ کی قرأت کلام پاک اور مولوی سید خواجہ معین الدین کی نعت شریف سے سمینار کا آغاز ہوا۔ آخر میں مولوی سید احمد علی معتمد جامعہ نظامیہ نے شکریہ اداکیا۔ جلسہ گاہ کے بیرونی حصہ میں گوشہ شیخ الاسلام قائم کیا گیا تھا جس میں شیخ الاسلام کے بارے میں مشاہیر کی آراء کو پیش کیا گیا تھا ۔